ڈبوں سے سات لاشیں برآمد، ماں پر قتل کا الزام

امریکی ریاست یوٹا کے ایک مکان میں گتے کی پیٹیوں میں سات بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔
میگن ہنٹسمین نامی ایک خاتون پر الزام لگایا گيا ہے کہ وہ اپنے چھ بچوں کی قاتل ہیں اور انھوں نے قتل کے بعد ان کی لاشوں کو گتے کی پیٹیوں میں رکھ دیا تھا۔
یہ بچے 39 سالہ میگن ہنٹسمین کے یہاں سنہ 1996 سے 2006 کےدرمیان پیدا ہوئے تھے۔
پولیس نے یوٹا میں پلیزینٹ گروو میں ان کے گھر سے سات لاشیں برآمد کی ہیں لیکن یہ معاملہ واضح نہیں ہے کہ ان پر چھ بچوں کے قتل کا ہی مقدمہ کیوں درج کیا گیا ہے۔
جب ان کے شوہر ڈیرن ویسٹ نے، جو اب ان سے علیحدہ رہتے ہیں، گیرج میں ایک لاش پائی تو انھوں نے پولیس کو مطلع کیا۔
واضح رہے کہ اس سلسلے میں ان پر الزامات نہیں لگائے گئے ہیں۔
اتوار کو یوٹا کی کنٹری جیل میں میگن ہنٹسمین پر چھ بچوں کے قتل کا الزام عائد کیا گيا ہے۔

،تصویر کا ذریعہbbc
ڈیرن ویسٹ خود حالیہ دنوں میں منشیات سے منسلک جرم میں جیل میں تھے۔ ان کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے وہ اس زمانے میں میگن کے ساتھ رہتے تھے جب یہ بچے پیدا ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے ترجمان مائیکل روبرٹس نے کہا: ’ہمارا خیال ہے کہ اس بارے میں انھیں علم نہیں تھا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شوہر کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی اہلیہ نے سات بچوں کو جنم دیا ہے تو اس کے جواب میں روبرٹس نے کہا: ’یہ لاکھ ڈالر کا سوال ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکار جوں جوں بکسے کھولتے گئے وہ دہشت زدہ ہوتے گئے۔
ان لاشوں کو طبی جانچ کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
میگن ہنٹسمین اور ان کے شوہر کے ڈی این اے کا نمونہ لیا گيا ہے تاکہ ان بچوں کے ولدیت کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے۔
اتوار کو ڈیرن ویسٹ خاندان نے کہا کہ وہ ’صدمے اور پریشانی کے عالم میں ہیں۔‘
مسز ہنٹسمین تین سال قبل ان کے گھر سے چلی گئي تھیں۔ ان کی تین بیٹیاں تھیں جن میں دو بالغ اور ایک نیم بالغ تھی اور یہ تینوں وہیں رہ گئی تھیں۔
پڑوسی وکی نیلسن نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’یہ تینوں بیٹیاں نارمل نظر آ رہی تھیں۔‘
پڑوسی نے کہا کہ انھیں شاید یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کی ماں حاملہ ہے یا پھر ان کو کسی قسم کا شک و شبہ نہیں گزرا۔







