پچیس سال بعد کال کوٹھری سے رہائی

مجھے اپنے بیٹے کو بڑا ہوتے دیکھنے کے حق سے محروم رکھا گیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمجھے اپنے بیٹے کو بڑا ہوتے دیکھنے کے حق سے محروم رکھا گیا

امریکی ریاست لوزیانا میں قتل کے جرم میں پچیس برس تک سزائے موت کا انتظار کرنے کے بعد ایک شخص دوبارہ آزادانہ گھومنے پھرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ اس شخص کو ایک سنار کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی مگر اب عدالت نے اسے بےقصور قرار دے دیا ہے۔

چونسٹھ سالہ گلین فورڈ کو اگست 1988 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت نے انھیں چھپن سالہ ایساڈور روزمین نامی شخص کو قتل کرنے کا مرتکب پایا تھا۔ مسٹر فورڈ کبھی کبھار مقتول کی دکان پر ملازمت کیا کرتے تھے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مسٹر فورڈ امریکہ کی حالیہ تاریخ میں اتنے طویل عرصے کے بعد کال کوٹھڑی سے رہائی پانے والے چند لوگوں میں سے ایک ہیں۔ ان تمام برسوں میں مسٹرگلین ہمیشہ اس الزام سے انکار کرتے رہے ہیں کہ مسٹر روزمین کا قتل انھوں نے کیا تھا۔

ریاست لوزیانا کی سخت سکیورٹی والی جیل سے رہائی پر جب ایک صحافی نے مسٹرفورڈ سے پوچھا کہ وہ کیا محسوس کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا ’ میرا دماغ ہرسمت میں جا رہا ہے، لیکن پھر بھی مجھے اچھا لگ رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات پر غصہ تو آ رہا ہے کہ انہیں تقریباً تیس برس تک اُس جرم میں جیل میں رکھا گیا جو انھوں نے کیا ہی نہیں تھا اور یوں ان کی زندگی کے کئی برس سلاخوں کے پیچھے گزر گئے۔ ’ چلیں تمام زندگی نہ سہی، لیکن میری زندگی کے تیس طویل سال جیل میں گزر گئے۔ اب میں واپس جا کر ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتا جو میں پینتیس، اڑتیس یا چالیس سال کی عمر میں کرنا چاہتا تھا۔

مسٹر فورڈ کی رہائی کے بعد امریکی عدالتی نظام کی خامیوں پر بحث ہو رہی ہے

،تصویر کا ذریعہABC

،تصویر کا کیپشنمسٹر فورڈ کی رہائی کے بعد امریکی عدالتی نظام کی خامیوں پر بحث ہو رہی ہے

’جب مجھے جیل میں ڈالا گیا اس وقت میرا بیٹا ایک ننھا بچہ تھا، اب وہ جوان مرد ہے اور اس کے اپنے بچے بھی ہو گئے ہیں۔‘

مسٹر فورڈ کے وکلا نے بتایا کہ ایک ضلعی جج نے پیر کو ان کے مؤکل کی رہائی کا حکم ان نئی معلومات کی بنیاد پر دیا جن سے مسٹر فورڈ کے اس دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ جب سُنار کا قتل ہوا تو وہ موقع پر موجود ہی نہیں تھے اور اس قتل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

اپنے مشترکہ بیان میں وکلا کا کہنا تھا کہ ’ہم بہت خوش ہیں کہ گلین فورڈ کو جرم سے بری کر دیا گیا ہے۔ ہم خاص طور پر سرکاری وکیل اور عدالت کے مشکور ہیں کہ انھوں نے اتنا فیصلہ کُن کردار ادا کیا۔‘ ان کا مذید کہنا تھا کہ ’ یہ مقدمہ وکیل کی ناتجربہ کاری اور ابتدائی گواہی کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے خراب ہوا تھا۔ اس کے علاوہ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کو بھی غیر آئینی طور پر دبا دیا گیا تھا جس میں قتل کے وقت اور آلہ قتل کے بارے میں اہم معلومات ہو سکتی تھیں۔‘

مسٹر فورڈ کے خلاف سنائے جانے والے برسوں پرانے فیصلے کے تبدیل ہونے سے امریکی عدالتی نظام میں موجود جو خامیاں سامنے آئی ہیں، ذرائع ابلاغ ان کے بارے میں بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ اس مقدمے میں کوئی آلہ قتل برآمد نہیں ہوا تھا اور جرم کا کوئی عینی شاہد بھی نہیں تھا۔