پاکستانی ڈرائیور کا بیٹا برطانوی وزیرِ ثقافت

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان سے نقل مکانی کرنے والے ایک بس ڈرائیور کے بیٹے کو برطانیہ میں وزیرِ ثقافت بنا دیا گیا ہے۔
ساجد جاوید سنہ 2010 میں رکنِ پارلیمان بنے تھے۔
اس موقعے پر انھوں نے کہا وہ اس کامیابی کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔
ساجد جاوید اپنی محنت کے بل بوتے پر لکھ پتی بنے ہیں اور وہ سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کے پرستار ہیں۔ انھیں کنزرویٹیو پارٹی میں تیزی سے ابھرنے والے ناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ساجد جاوید کے والد سنہ 1961 میں برطانیہ گئے تھے اور اس وقت ان کی جیب میں صرف ایک پاؤنڈ تھا۔ انھوں نے روچڈیل میں رہائش اختیار کی۔
ساجد جاوید سنہ 1969 میں پیدا ہوئے اور ان کے چار بھائی ہیں۔
انھوں نے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی میں معاشیات اور سیاسیات کے مضامین پڑھے۔
ساجد جاوید بتاتے ہیں کہ ان کے والد لیبر پارٹی کے حامی تھے۔ تاہم سنہ کے 1978 بعد وہ مارگریٹ تھیچر کے مداح ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی طرح کنزرویٹو رہنماؤں کے دور میں ملک کے بدلتے مستقبل سے متاثر ہو کر ساجد جاوید نے بھی سنہ 1988 میں پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔
ساجد جاوید ایک سابق بینکار ہیں اور انھیں گذشتہ برس وزیرِ خزانہ تعینات کیا گیا تھا۔
24 برس عمر میں وہ چیئز مینہیٹن بینک کی تاریخ کے کم عمر ترین نائب صدر بنے۔ انھوں نے سنہ 2009 میں سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔
برومزگروو سے ممبر پارلیمان منتخب ہونے والے ساجد نے بی بی سی کو بتایا کے کہ وہ اس نئے منصب کے ملنے پر کافی پرجوش اور حیران ہیں۔
انھوں نے کہا ’میں اتنی جلدی ملک کی خدمت کے اتنے بڑے موقعہ ملنے کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ تاہم میں اسے ایک بہت بڑا اعزاز سمجھتا ہوں۔‘
نئے عہدے میں ان کے فرائض نشریات، کھیل، میڈیا، سیاحت، ٹیلی کام، مساوات اور فن شامل ہیں۔







