شمالی کوریا کے درجنوں راکٹ تجربے

جنوبی کوریا اور امریکہ دونوں نے شمالی کوریا کے راکٹ ٹیسٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا اور امریکہ دونوں نے شمالی کوریا کے راکٹ ٹیسٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے

شمالی کوریا نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختصر فاصلے تک مار کرنے والے راکٹوں کے درجنوں تجربے کیے ہیں جسے جنوبی کوریا نے سیول کے خلاف غصے کا اظہار قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راکٹوں کے یہ تجربے شمالی کوریا کا جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف احتجاج کا طریقہ ہے۔

اتوار کو سنمدر میں تقریباً 16 راکٹ داغے گئے جبکہ اس سے پہلے سنیچر کو 30 راکٹ فائر کیے گئے تھے۔

پیانگ یانگ کادعویٰ ہے کہ راکٹ ٹیسٹ معمول کی دفاعی مشق تھی لیکن خود شمالی کوریا نے سیول اور واشنگٹن کی مشترکہ جنگی مشقوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے حملے کی تیاری قرار دیا ہے۔

عالمی سطح پر تنہا ہو جانے والا شمالی کوریا اکثر طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے لیکن اس دفعہ اس نے غیر معمولی تعداد میں راکٹ فائر کیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اس مہینے تقریباً 70 میزائل فائر کیے جس میں اس ہفتے داغے جانے والے 46 راکٹ شامل ہیں۔

جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ جنوبی کوریا مینڈک یا فراگ راکٹ فائر کر رہا ہے جو سوویت یونین کے زمانے کے بنے ہوئے ان گائڈڈ راکٹ ہیں جو سنہ 1960 کی دہائی سے ان کے فوجی ساز وسامان کا حصہ ہیں۔

جنوبی کوریا اور امریکہ دونوں نے شمالی کوریا کے راکٹ ٹیسٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکہ نے مارچ کے اوائل میں بھی اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف میزائل لانچ کرنے پر’مناسب کارروائی کرے۔‘

امریکہ کا موقف ہے کہ شمالی کوریا نے بیلیسٹک میزائل ٹیکنالوجی استعال کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی رو سے شمالی کوریا کو بیلیسٹک میزائل ٹیکنالوجی کو ترک کرنا ہوگا۔