پیرس میں گاڑیوں کے روزانہ استعمال پر پابندی

فرانس کی ماحولیاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ابھی تک کے ریکارڈ کے مطابق شہر کی ہوا کا معیار اپنی بدترین سطح پر ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفرانس کی ماحولیاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ابھی تک کے ریکارڈ کے مطابق شہر کی ہوا کا معیار اپنی بدترین سطح پر ہے

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں آلودگی کو کم کرنے کی ایک نادر کوشش کے تحت موٹر گاڑیوں کے روزانہ استعمال پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

اس پابندی کے تحت روزانہ کے بجائے، ایک دن چھوڑ کر گاڑی کے استعمال کی ہی اجازت ہوگی۔

آئندہ سوموار سے اپنی گاڑی کے ڈرائیور ایک دن چھوڑ کر ہی اپنی گاڑی کا استعمال کر سکتے ہیں۔

سنہ 1997 کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب اس قسم کی پابندی لگائی گئي ہے۔

حکومت فرانس کو ایسا فیصلہ اس وقت لینا پڑا جب پیرس اور اس کے نواحی علاقوں میں مسلسل پانچ دنوں تک آلودگی کی سطح محفوظ سطح سے تجاوز کرتی رہی اور خطرناک سطح میں داخل ہو چکی تھی۔

اس پابندی کے تحت موٹر سائیکلیں بھی آئیں گی۔ موٹر سائیکلوں کو ان کے طاق اور جفت نمبروں کے تحت سڑک پر آنے کے لیے دن ملیں گے۔

اس فیصلے پر عمل در آمد سوموار کو مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے سے شروع ہو جائے گا۔

دریں اثنا جمعہ کو سرکاری ٹرانسپور کو تین دنوں کے لیے مفت کر دیا گیا تاکہ لوگ انھیں استعمال کریں اور وہ اپنی موٹر گاڑیوں کو گھر پر چھوڑ کر سرکاری بسوں اور ٹرینوں میں سفر کریں۔

بیجنگ کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبیجنگ کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے

حکومت کی جانب سے مفت سواری کی سہولت سوموار تک فراہم کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہر پہ چھانے والی دھند کا موٹر گاڑیوسے خارج ہونے والے دھوئیں، سرد راتوں اور گرم دن کے مرکب کا نتیجہ ہے کیونکہ اسے چھٹنے کا موقع نہیں مل رہا ہے۔

فرانس کی ماحولیاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ابھی تک کے ریکارڈ کے مطابق شہر کی ہوا کا معیار اپنی بدترین سطح پر ہے اور یہ چینی دارالحکومت بیجینگ سے مقابلے پر آمادہ ہے۔

واضح رہے کہ بیجنگ کا دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔

جمعے کو آلودگی کی سطح 180 مائکروگرام ریکارڈ فی معکب میٹر ریکارڈ کی گئی جو کہ محفوظ سطح 80 مائکروگرام کے مقابلے دوگنے سے بھی زیادہ ہے۔

حکومت سوموار کو پھر سے آلودگی کی سطح کی جانچ کرے گی تاکہ یہ فیصلہ لے سکے کہ اس پابندی کو مزید طول دینا ہے یا نہیں۔