’شدت پسند والدین سے بچے واپس لے لیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
لندن کے میئر بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان مسلمان بچوں کو حکومت کو اپنی تحویل میں لے لینا چاہیے جن کے بارے میں خطرہ ہو کہ والدین انھیں شدت پسند بنا سکتے ہیں۔
روزنامہ ڈیلی ٹیلیگراف میں اپنے ہفت روزہ کالم میں بورس جانسن نے لکھا ہے اس قسم کے بچوں کا شمار دراصل ایسے بچوں میں ہونا چاہیے جن کے ساتھ والدین زیادتی کرتے ہیں۔ لندن کے میئر کے مطابق ایسے مسلمان بچوں کو ’ممکنہ دہشت گرد یا خود کش بمبار‘ بننے سے بچانے کے لیے والدین سے الگ کر دینا چاہیے۔
برطانیہ میں مسلمانوں کی بڑی تنظیم مسلم کونسل آف بریٹن نے بورس جانسن کو خبردار کیا ہے کہ ان کے بیان سے ملک میں مسلمانوں کے خلاف جذبات بھڑک سکتے ہیں۔
اپنے کالم میں لندن کے میئر نے خبردار کیا ہے کہ کچھ مسلمان بچوں کو گھروں میں ویسے ہی ’پاگلانہ قسم کے سبق‘ پڑھائے جاتے ہیں جن کا اظہار کچھ ماہ پہلے جنوبی لندن میں ایک فوجی (لی رِگبی) کو قتل کرنے والے دو نوجوانوں نے کیا تھا۔
عوام کا تحفظ
بورس جانسن نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ’مسئلہ یہ کہ حکومت کے سوشل سروس کے اداروں اور پولیس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان کے اس بات کے واضح ثبوت ہوتے ہیں کہ کسی گھر میں بچوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے لیکن وہ ایسے بچوں کی مدد نہیں کر سکتے کیونکہ انھیں یقین نہیں ہوتا کہ ’بچوں کے بچاؤ‘ کے موجودہ قوانین ان کا ساتھ دیں گے۔
’موجودہ قوانین کے تحت اگر گھر میں بچے کے سامنے فحش تصاویر یا فلمیں دیکھی جاتی ہیں یا اس کے ساتھ کوئی جسمانی زیادتی کی جا رہی ہے تو حکومت بچے کو اپنی تحویل میں لے سکتی ہے، لیکن اگر بچے کے ذہن میں اس دنیا کے بارے میں منفی خیالات ڈالے جا رہے ہیں اور اسے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس دنیا میں کچھ بھی ٹھیک نہیں، اور بچے کے بڑا ہو کر قاتل بننے کا خطرہ ہو تو آپ قانوناً اسے والدین سے الگ نہیں کر سکتے۔
’میرے پاس ایک واضح مثال موجود ہے کہ جہاں ایک سزا یافتہ دہشت گرد کے چھوٹے بہن بھائی اسی راستے پر جا رہے ہیں جس پر چلتے ہوئے وہ بھی بڑے ہو کر شدت پسند بنیں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے مجھے نہیں پتہ کہ بچوں کی تحویل کا قانون اس سلسلے میں کیا کہتا ہے۔ کتنی فضول بات ہے یہ۔
’بچوں کو انتہاپسندی کا سبق دینے کو بھی ہمیں ’بچوں کے زیادتی‘ کے زمرے میں رکھنا چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’انسدادِ دہشت گردی کے ادارروں کے اہلکاروں کی اکثریت پوری طرح قائل ہے کہ اس سلسلے میں قانون کو بالکل واضح ہونا چاہیے تا کہ جن بچوں کو دہشت گرد یا خودکش بنائے جانے کا خدشہ ہو ان کو ان کی اپنی حفاظت اور عوام کے تحفظ کی خاطر والدین سے الگ رکھا جا سکے۔‘
کالم کی اشاعت کے بعد اپنے ماہانہ ریڈیو پرگرام میں لندن کے میئر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ بورس جانسن کا کہنا تھا کہ اس قسم کے مسلمان بچوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہے۔
بورس جانسن کے ان بیانات کے بعد مسلم کونسل آف برٹن کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کو محض شہ سرخیوں میں رہنے کے لیے بیانات نہیں دینے چاہییں۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ میئر کے خیالات مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بھڑکا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPA
تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ لی رگبی کے بہیمانہ قتل کی برطانیہ بھر کے مسلمانوں نے مذمت کی تھی، لیکن اس کے باوجود قتل کے بعد کے دنوں میں مسلمانوں پر حملوں میں بہت شدت آ گئی تھی۔
دوسری جانب انتہا پسندی کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم ’قِلیم فاؤنڈیشن‘ نے میئر کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ بورس جانسن نے ایک مہلک خطرے کی نشاندہی کی ہے۔
تنظیم کا کہنا تھا کہ بچوں کی تحویل کے قانون کا اطلاق ہمارے معاشرے کے ہر فرد پر برابر ہونا چاہیے اور اسے منصفانہ ہونا چاہیے، تاہم تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ محض اس خیال سے کہ بچہ بڑا ہو کر شدت پسند نہ بن جائے، قانون بدلنے کی بات کرنا ’خطرناک علاقے‘ میں قدم رکھنے کے مترادف ہوگا:
’ہمارے پاس اس بات کا تحقیق پر مبنی کوئی ثبوت نہیں کہ والدین اپنے بچوں کو شدت پسند بنا رہے ہیں۔‘







