برطانوی فوجی کے قتل کا مقدمہ، مجرموں کا تعین

لندن کے جنوبی مشرقی حصے میں اس سال مئی میں ایک برطانوی فوجی لی رگبی کو ہلاک کرنے میں دو افراد کو مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔
مائیکل ایدبولاجو اور مایکل ایدبووالو نے لی رگبی کو گاڑی سے ٹکر مارنے کے بعد چاقوکے وار کرکے ہلاک کر دیا تھا۔
ایدبولاجو نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اللہ کا سپاہی ہے اور برطانوی فوجی کو ہلاک کرنا ایک جنگی عمل تھا۔
ان دونوں افراد کو اس جگہ پر ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کرنے کا مجرم قرار نہیں دیا گیا۔
لندن میں اولڈ بیلی میں ایک جیوری کو جو آٹھ خواتین اور چار مردوں پر مشتمل تھی اس فیصلہ پر پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔
جیوری کو بتایا گیا ان دونوں مجرموں نے فوزیلر رگبی کو تیس سے چالیس گھنٹہ فی میل کی رفتار سے چلتی کار سے ٹکر ماری اور پھر ان کو گھسیٹ کر سڑک کے بیچوں بیچ لا کر گوشت کاٹنے والے ٹوکے سے وار کر کے ہلاک کر دیا۔
عدالت میں موجود مقتول کے رشتہ دار فیصلہ سنائے جانے کے بعد رو پڑے۔ مقتول کی بیوہ اور والد جیوری کے فیصلے سے مطمئن تھیں اور ان کا کہنا تھا یہ ہماری زندگی کا سب سے کٹھن دور تھا۔ انھوں نے کہا کہ جس کرب سے وہ گزرے ہیں کس اور کو اس کا سامنا نہ کرنے پڑے۔
ربیکا رگبی کا کہنا تھا کہ : ’ ان لوگوں نے میرے بچے سے اس کا باپ چھین لیا ہے لیکن ان کی یاد ہماری زندگی کے ساتھ رہے گی اور ہم انھیں کبھی نہیں بھولیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایدبولاجو نے اپنی انتہا پسندی کو کبھی چھپایا نہیں تھا اور وہ میٹرپولیٹن پولیس اور سیکیورٹی سروسز کے ریڈار پر تھا لیکن اس کے بارے میں کبھی یہ خیال نہیں ہوا کہ وہ کوئی کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

اایدبولاجو کو کالعدم تنظیم المہاجرون نے انتہا پسندی کی طرف مائل کیا اور سنہ دو ہزار دس میں وہ الشباب میں شمولیت کی غرض سے صومالیہ جانے کی کوشش میں کینیا سے گرفتار ہوا۔
قبل ازیں برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی فائیو کے ڈائریکٹر اینڈریو پارکر نے اپنے ادارے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کس شخص کہ ہمارے راڈار پر ہونے کا ہرگز مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ ہماری مائیکروسکوپ پر ہے۔
عدالت کے جج جسٹس سیونی نے حکم دیا کہ فیصلہ مکمل خاموشی سے سنا جائے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس مقدمے میں سزا جنوری میں عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد دیں گے۔
وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون نے کہا کہ پورا ملک اس قتل کے بعد صدمے سے دوچار ہو گیا تھا اور پورا ملک اس قتل کی مذمت کرنے میں ہم آواز تھا۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں اس انتہاہ پسند اور تشدد کی سوچ کے خلاف اپنی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا اور اپنے ملک میں اس کو ختم کرنے کو یقینی بنانا ہوگا۔
وزیر داخلہ تھریسہ مے نے کہا کہ رگبی کے بہیمانہ قتل نے پورے ملکوں کو اس کی مذمت میں یک زبان کر دیا تھا۔
برطانیہ میں مسلمانوں کی تنظم مسلم کونسل آف برٹن کے سیکریٹری جنرل فاروق مراد کا کہنا تھا مسلمان کمیونٹی اس کی مذمت کرنے میں متحدہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک کوئی عزت مندانہ فعل نہیں تھا اور قتل کو کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔







