ابوقتادہ کی برطانیہ بدری کی راہ ہموار

ابوقتادہ نے 1993 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کی
،تصویر کا کیپشنابوقتادہ نے 1993 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کی

برطانوی حکومت کی طرف سے اردنی نژاد مسلم مبلغ ابوقتادہ کو ملک بدر کرنے کی پانچ سالہ کوششیں کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔

اردن کے بادشاہ عبداللہ نے برطانیہ کے ساتھ اس معاہدے کی توثیق کر دی ہے جس کے تحت ابوقتادہ کو اردن واپس بھیجا جا سکے گا۔

برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے اس معاہدے کی توثیق ہونا باقی ہے۔توقع کی جاری ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ بھی اگلے چند روز میں اس معاہدے کی توثیق کر دے گی جس کے بعد وزیر داخلہ ٹریسا مے ایک بار پھر ابوقتادہ کی ملک بدری کے احکامات جاری کر سکیں گی۔

ابوقتادہ ایک بار پھر وزیر داخلہ کے احکامات کو چیلنج کر سکیں گے لیکن برطانیہ اور اردن میں معاہدے کے بعد ان کی اپیل کی کامیابی کے امکانات کم ہیں۔

ابوقتادہ کو ملک بدر کرنے سےمتعلق ماضی میں جاری کیے والے احکامات کو برطانوی اور یورپی یونین کی عدالتوں نے اس بنا پر معطل کر دیا تھا کہ اردن میں ابوقتادہ کے خلاف مقدمات میں ایسی شہادتیں بھی استعمال ہو سکتی ہیں جو تشدد کے استعمال سے حاصل کی گئی ہیں۔

ابوقتادہ نے 1993 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ لی لیکن بعد میں برطانیہ میں یہودیوں کو اور اسلام کو چھوڑنے والے افراد کو ہلاک کرنے کی حمایت کرنے کی وجہ بدنام ہوئے۔

برطانیہ کی حکومت ابوقتادہ کو ملک بدر کرنے کی کوششوں میں سترہ لاکھ پونڈ خرچ کر چکی ہے۔

ابوقتادہ عدالت کی طرف سے موبائل فون استعمال نہ کرنے کے احکامات کی خلاف ورزی کے جرم میں اس وقت ہائی سکیورٹی جیل بیلمارش میں قید ہیں۔