مودی سے قربتیں: خارجہ پالیسی میں تبدیلی یا وقت کا تقاضا

،تصویر کا ذریعہPTI
- مصنف, برجیش اُپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
بھارت میں امریکہ کی سفير نینسی پاول اس ہفتے بی جے پی کے رہنما نریندر مودی سے ملاقات کرنے جا رہی ہیں۔
12برسوں تک مودی کو ٹھکرانے کے بعد ان سے ہونے والی اس ملاقات کو بہت افراد امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی طرح دیکھ رہے ہیں۔
لیکن واشنگٹن میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف بھارت میں عام انتخابات سے پہلے ہونے والے سروے کے اعداد شمار کا کمال ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے لیے حالات ایسے بن رہے کہ ان کے ایک اتحادي ملک میں ایک ایسا شخص وزیرِ اعظم بن سکتا ہے جسے انہوں نے کبھی اپنی زمین پر پاؤں نہیں رکھنے دیا۔
مودی کے خلاف امریکہ میں کافی عرصے تک آواز اٹھانے والے جوزف گربوسكي نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی پالیسی نہیں بدلی ہے، دراصل وہ اب مودی کو بھارت کے وزير اعظم کی طرح دیکھ رہا ہے۔
مذہبی حقوق کے بارے میں ایک تھنک ٹینک کے سربراہ گرووسكي کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’مذہبی آزادی موجودہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے لیے اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی 2005 میں تھی جب امریکہ نے مودی کو گجرات فسادات میں ان کے کردار پر اٹھنے والے سوالات کی وجہ سے ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔‘
گرووسكي نے کہا کہ وہ یہی امید کرتے ہیں کہ مودی کے ساتھ نینسی پاول کی ملاقات کو اس طرح سے نہیں دیکھا جائے گا کہ امریکہ مودی کی پالیسی سے اتفاق رکھتا ہے۔
امریکی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مودی سے ملاقات کا فیصلہ ایک درست فیصلہ ہے اور سوچ سمجھ کر لیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دفترے خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے اور نہ ہی پوری دنیا میں انسانی حقوق کے لیے جو ان کی پالیسی ہے اس میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔
گذشتہ کچھ مہینوں سے کئی با اثر امریکی تھنک ٹینک مودی کی جیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ امریکی سرمايہ كار بھی ان کی طرف جھکاؤ دکھا رہے ہیں۔
امریکہ کی بڑی کار بنانےوالي کمپنی جنرل موٹرز کی ایک فیکٹری گجرات میں ہے اور خبریں ہیں کہ اس سال فورڈ کار کمپنی بھی ایک فیکٹری گجرات میں کھولنے جا رہی ہے۔
کارنیگی انسٹی ٹیوٹ میں سیاسی امور کے ماہر ملند ویشنو کا کہنا ہے کہ ’انسانی حقوق کے معاملے میں مودی کے ریکارڈ کے حوالےسے تشویش ختم نہیں ہوئی لیکن امریکہ اب بھارت کے انتخابات کو دیکھ رہا ہے۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ شاید پہلے کرنا چاہیے تھا۔
ملند ویشنو کہتے ہیں ، ’انتخابات کے ٹھیک پہلے یہ فیصلہ امریکی موقع پرستی کو ظاہر کرتا ہے اور یہ الزام بھی لگ سکتے ہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل دے رہا ہے۔‘
تجـزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی کے حامی اب یہاں پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ طاقتور ہیں اور پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی بات رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔
ظہیر جان محمد واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے لیے کام کر چکے ہیں اور مودی پر پابندیاں لگانے کے لیے کئی ریلیوں میں بھی شامل ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے پہلے جب کسی اجلاس میں وہ مودی کے خلاف آواز اٹھاتے تھے تو شاید ہی کہیں سے اس کے خلاف کوئی آواز اٹھتی تھی۔
ظہیر جان محمد کا کہنا ہے کہ اب امریکی کانگریس اور واشنگٹن میں بہت ایسے افراد ہیں جو مانتے کہ گجرات فسادات میں مودی کے کردار کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا اور انہیں بے وجہ نشانہ بنایا گیا۔







