شام ہتھیاروں کو ہٹانے میں ٹال مٹول کر رہا ہے: امریکہ

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ نے شام پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کیمیائی ہتھیار ہٹانے میں ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔
امریکہ کے نائب سیکریٹری دفاع انڈریو ویبر نے یہ الزام ایک ایسے وقت میں لگایا ہے جب شام بین الاقوامی سطح پر دی گئی تاریخ تک کیمیائی ہتھیاروں کو ملک سے نکالنے میں ناکام ہو جائے گا۔
ادھر روس نے کہا ہے کہ اسے شام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مارچ کے اوائل تک ہتھیاروں کی منتقلی کا عمل مکمل کر دے گا۔
<link type="page"><caption> کیمیائی ہتھیاروں کی منتقلی میں سستی پر امریکی ’تشویش‘</caption><url href="کیمیائی ہتھیاروں کی منتقلی میں سستی پر امریکی ’تشویش‘" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> شام پر مذاکرات بڑی پیش رفت کے بغیر ختم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/01/140131_syria_geneva_talks_un_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
امریکہ کو شام سے کیمیائی ہتھیاروں کو شام سے منتقلی کے عمل میں تاخیر پر تشویش ہے اور گذشتہ ہفتے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب پر زور دیا تھا کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کی منتقلی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے شامی حکومت پر دباؤ ڈالے۔
واضح رہے کہ کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے (او پی سی ڈبلیو) کو شامی کیمیائی ہتھیاروں کو رواں برس 30 جون تک تلف کرنا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی پشت پناہی سے چلنے والے اس منصوبے کے تحت شامی حکام ان کیمیائی ہتھیاروں کو بحفاظت اور جلد تلف کرنے کے لیے ملک سے باہر منتقل کرنے کے پابند ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علاوہ ازیں جان کیری نے شام کے شہر حلب میں صدر بشارالاسد کے حامی فوجیوں کی طرف سے بیرل بموں کے استعمال کی بھی شدید مذمت کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے منگل کو حلب پر مزید بیرل بموں سے حملہ کیا جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ بیرل بم اکثر تیل کے ڈرموں اور سلینڈروں میں دھماکا خیز مواد ملا کر بنائے جاتے ہیں۔
برطانیہ میں سیریئن آبزرویٹري فار ہیومن رائٹس کے مطابق حملے کے دوران ضلع مساکان ہنانو میں ایک مسجد پر بم پھینکے گئے، جس میں ہلاک ہونے والے میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔
تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ چار دنوں میں اس قسم کے حملوں کے دوران کم از کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
جان کیری نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک ایسی حکومت کا حالیہ وحشیانہ اقدام ہے جس نے بڑے پیمانے پر لوگوں پر تشدد کیا، کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا اور ضرورت مند لوگوں تک خوراک کی رسد بند کرکے ساری برادریوں کو بھوکا رکھا ہے۔‘
شام میں سنہ 2011 سے جاری شورش میں کم سے کم ایک لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں۔ شامی تنازعے کو حل کرنے کے لیے جنوری کے آخر میں سوئٹزر لینڈ میں جاری امن مذاکرات کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ہی ختم ہوگئے تھے۔ تاہم آئندہ مذاکرات کے لیے دس فروری کی تاریخ منتخب کی گئی ہے۔







