جنیوا: شامی امن مذاکرات کا آغاز متوقع

جنیوا میں آج شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان آج پہلی بار تمام دن مذاکرات متوقع ہیں۔
جمعرات کو امن مذاکرات کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی نے فریقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کر کے تعین کیا کہ دونوں فریق کس حد تک مشترکہ مذاکرات کرنے کے لیے رضامند ہیں۔
اس سے قبل امن مذاکراتی کانفرنس کے پہلے روز جنیوا کے نواحی قصبے مونٹرو میں فریقین کےدرمیان تلخ و ترش کا تبادلہ ہوا تھا۔
شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک تخمینے کے مطابق 20 لاکھ شامی ملک چھوڑنے پر مجبور، جب کہ 65 لاکھ سے زائد ملک کے اندر بےگھر ہو گئے ہیں۔
جمعرات کو اخضر ابراہیمی نے صدر بشار الاسد اور ان کے مخالفین کے نمائندوں سے غیر رسمی مذاکرات کیے ۔
بی بی سی کی برِجٹ کنڈل کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات اس لیے انتہائی اہم ہیں کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب دونوں فریق آمنے سامنے ہیں۔
ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اخضر ابراہیمی کے لیے جمعے کے روز سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ کوئی فریق مذاکرات چھوڑ کر چلا نہ جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ جاری کردہ پلان کے تحت جمعے کے ابتدائی سیشن میں دونوں فریق ایک ہی کمرے میں ہیں۔ تاہم ان کی براہِ راست گفتگو کی توقع نہیں کی جا رہی۔ پلان کے مطابق اخضر ابراہیمی اس موقعے پر خطاب کریں گے جس کے بعد دونوں جانب کے نمائندے علیحدگی میں اپنے ابتدائی موقف مرتب کریں گے۔
جمعے کے روز کے لیے بقایا پلان تیار نہیں کیا گیا ہے مگر ان مذاکرات کے ایجنڈے کے تعین میں بھی بہت مشکلات ہیں۔ حکومتی وفد دہشت گردی پر قابو پانے کی بات کرے گا جبکہ حزبِ مخالف صدر بشار الاسد کو ہٹانے کی بات کرے گی۔
ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی تک شام کو نہیں بچایا جا سکتا۔ دوسری جانب شامی اہل کار اس بات پر مصر ہیں کہ صدر بشار الاسد اقتدار سے الگ نہیں ہوں گے۔
امن کانفرنس کے پہلے دن کے اختتام پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شام میں امن قائم کرنے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا: ’بس بہت ہو گیا، شام کے تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کا وقت آ گیا ہے۔‘
بان کی مون کے مطابق: ’اصل کام جمعے کو شروع ہو گا، ہمارے سامنے راستہ مشکل ہے، لیکن اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے اور اسے ہر حالت میں حل کیا جانا چاہیے۔‘







