شیرون کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں

اسرائیل میں سابق وزیراعظم ایریئل شیرون کی آخری رسومات صحرائے النقب میں ان کی خاندانی جاگیر پر ادا کر دی گئی۔
شیرون کی آخری رسومات تین مراحل میں ادا کی گئیں جن میں سب سے پہلے ایک سرکاری تقریب منعقد کی گئی جس کے بعد ان کے لیے ایک فوجی تقریب منعقد کی گئی اور آخر میں ان کے تابوت کو سیدروت میں ان کی خاندانی جاگیر پر جایا گیا۔
وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیرون ’یہودی لوگوں میں پیدا ہونے والے عظیم ترین کمانڈروں میں سے ایک تھے۔‘
شیرون کو کئی اسرائیلی ایک مدبر سیاستدان جبکہ دنیا میں خاص طور پر عرب دنیا میں انہیں نفرت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
ان کی آخری رسومات میں عرب دنیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ سے کسی بھی رہنما یا نمائندے نے شرکت نہیں کی۔
اتوار کو ہزاروں کی تعداد میں غم گساروں نے شیرون کے تابوت کا آخری دیدار کیا جو اسرائیلی پارلیمان کے سامنے رکھا ہوا تھا۔
شیرون کو غزہ کے قریب واقع سیدروت قصبے میں ان کی خاندانی جاگیر پر ان کی اہلیہ لِلی کے پہلو میں دفن کیا گیا ہے جو 2000 میں وفات پا گئی تھیں۔
ان کی تدفین کے موقع پر سکیورٹی کے انتظامات سخت تھے اور تدفین کے آخری مرحلے میں ان کے تابوت کو آٹھ حاضر سروس جرنیلوں نے کاندھوں پر اٹھایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تدفین سے قبل 20 ممالک کے مندوبین اور سینکڑوں اسرائیلی عمائدین نے سرکاری یادگاری سروس میں شرکت کی۔
عالمی رہنماؤں میں امریکی نائب صدر جو بائیڈن، روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف، مشرقِ وسطیٰ کے عالمی ایلچی ٹونی بلیئر، چیک وزیراعظم جیری رسنوک اور جرمن وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹائنمر شامل تھے۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے مسٹر شیرون کو ایک ’منہ زور بلڈوزر‘ قرار دیا جن کے لیے ’اپنے عوام کی سکیورٹی ایک نہ ختم ہونے والا مشن تھا۔‘
ایریئل شیرون سینیچر کو آٹھ سال کومے میں رہنے کے بعد پچاسی سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
شیرون کے تابوت کو ایک مختصر فوجی تقریب کے لیے یروشلم کے مغرب میں لاترون کے مقام پر لیجایا گیا جہاں وہ 1948 کی آزادی کی جنگ کے دوران شدید زخمی ہوگئے تھے۔

شیرون کے دفن کیے جانے کی جگہ کی غزہ سے قربت کی وجہ سے اس کے اردگرد سکیورٹی حصار بنائے گئے تاکہ ممکنہ راکٹوں کے حملوں سے بچا جا سکے۔
شیرون اسرائیلی فوج اور سیاست کی بااثر شخصیت تھے لیکن ان کا کریئر تنازعات میں گھرا رہا اور صبرا اور شاتیلا کے قتلِ عام میں شیرون کے کردار کی وجہ سے فلسطینی عوام ایریئل شیرون سے نفرت کرتے ہیں۔
سنہ 1983 میں ایک اسرائیلی ٹریبونل نے سنہ 1982 کے حملے کی تحقیقات کرتے ہوئے ایئریل شیرون کو قتلِ عام کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیا اور انھیں عہدے سے ہٹا دیا۔







