لبنان: بیروت میں دھماکہ، سابق وزیر ہلاک

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دھماکے میں اطلاعات ہیں کہ سابق وزیر محمد شطح سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
بم حملہ پارلیمینٹ ہاؤس اور دیگر سرکاری عمارتوں کے قریب کیا گیا۔
محمد شطح حزبِ مخالف کے رہنما تھے اور سابق لبنانی وزیرِ اعظم کے سعد الحریری کے مشیر تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق شہر کے مرکز میں دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں اور یہ حملہ پارلمنٹ کی عمارت سے چند سو میٹرز کے فاصلے پر ہوا ہے۔
ہمسایہ ریاست شام میں جاری لڑائی کی وجہ سے لبنان میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے کہ اور اب تک کئی حملے بھی ہو چکے ہیں۔
لبنان کے سُنی مسلمان جنگجو شام میں حکومت مخالف باغیوں کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں جبکہ باغیوں کے بعض گروپ القاعدہ سے بھی منسلک ہیں۔
شام کے صدر بشارالاسد شیعہ اسلام کے علوی فرقے سے ہیں۔ اسی لیے لبنان کی شیعہ عسکریت پسند جماعت حزب اللہ نے اپنے جنگجو شامی حکومت کی مدد کے لیے بھیجے ہیں۔
ایران بھی حزب اللہ کا حامی ہے اور اس کے سفارتخانے کو بھی گذشتہ ماہ بیروت میں نشانہ بنایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رواں ماہ ہی حزب اللہ کے ایک سینیئر کمانڈر کو بیروت کے نواح میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔







