گوریلا تربیت سے امن کے انعام تک

سنہ انیس سو باسٹھ میں کرنل فیکادو واکنے نے جنوبی افریقہ کے سیاسی کارکن نیلسن منڈیلا کو گوریلا جنگ کی تربیت دی تھی جس میں دھماکہ خیز مواد نصب کرکے خاموشی سے فرار ہونے کے طریقے بھی شامل تھے۔
بعد میں امن کا نوبل انعام پانے والے نیلسن منڈیلا اپنی آزادی کی جدوجہد میں اس وقت ایتھوپیا میں تھے جہاں وہ افریقن نیشنل کانگریس کے مسلح بازو یومکنتو وی سوازی کو چلانے کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔
افریقن نیشنل کانگریس کی اس مسلح تنظیم نے سنہ انیس سو اکسٹھ میں جنوبی افریقہ میں متعدد مقامات پر بجلی کے کھمبوں کو تباہ کرکے اپنے وجود میں آنے کا اعلان کیا تھا۔
نیلسن منڈیلا گیارہ جنوری سنہ انیس سو باسٹھ کو غیر قانونی اور خفیہ طریقے سے جنوبی افریقہ سے چلے گئے تھے۔
وہ افریقن نیشنل کانگریس اور اس کی مسلح تنظیم کے لیے افریقی ملکوں سے سیاسی، مالی اور عملی حمایت حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے۔
اس کے ساتھ ہی خود بھی گوریلا جنگ کی تربیت حاصل کرنا تھا۔

اس دوران وہ دو مرتبہ ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا گئے جہاں وہ جن لوگوں سے ملے انھیں متاثر کیا۔
کرنل فیکادو نے کہا کہ :’نیلسن منڈیلا ایک صابر اور مضبوط طالب علم تھے۔ وہ بڑی توجہ سے احکامات سنتے تھے اور وہ دل پسند شخصیت تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرنل فیکادو اس وقت سپاہی تھے جب انھوں نے منڈیلا کو گوریلا جنگ کی تربیت دی تھی۔ اس وقت وہ خصوصی پولیس فورس کے ہنگاموں سے نمٹنے والے دستوں میں شامل تھے اور ادیس ابابا کے قریب تعینات تھے۔
وہ نیلسن میڈیلا کو ایک ایسے شاگرد کے طور پر یاد کرتے ہیں جو ہمیشہ خوش رہتے تھے اور ہمیشہ اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھتے تھے۔
نیلسن منڈیلا نے انیس سو باسٹھ میں تنزانیہ کا بھی دورہ کیا اور انھوں نے آنجہانی وزیر سلو سوائی کے ساتھ قیام کیا۔

ان کی بیوی وکی سلو سوائی نے بتایا کہ نیلسن منڈیلا جب جانے لگے تو ان کا سامان زیادہ ہو گیا تھا اور انھیں ایک سوٹ کیس چھوڑنا پڑا جس میں چمڑے کے براؤن رنگ کے جوتے تھے جو انھوں نے تینتیس برس تک سنبھال کر رکھے۔
انھوں نے کہا کہ اپنے شوہر کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ درالسلام منتقل ہو گئے اور وہ یہ جوتے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
اس کے بعد ان کے شوہر کو اقوام متحدہ میں نوکری مل گئی اور وہ نیو یارک منتقل ہو گئے اور نیلسن منڈیلا کے جوتے بھی وہ اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ پندرہ سال تک انھوں نے نیویارک میں بھی یہ جوتے سنبھال کر رکھے۔
انھوں نے کہا کہ :’ہم نے اپنی خواب گاہ کی ایک الماری میں یہ جوتے سنبھال کر رکھے۔ میں نے انھیں کبھی پالش اور صاف نہیں کیا لیکن میں نے ان کے اندر اخبار ٹھونس کر رکھے تاکہ یہ خراب نہ ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ جوتے بڑے اعلیٰ چمڑے کے بنے ہوئے تھے اور بڑے مضبوط تھے۔ جب یہ جوتے انیس سو پچانوے میں منڈیلا کو واپس پہنچائے گئے تو وہ اس وقت بھی بالکل نئے لگ رہے تھے۔
اس وقت بھی منڈیلا کو یہ جوتے بالکل ٹھیک آئے اور انھوں نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ ان جوتوں نے اُن سے زیادہ سفر کر لیا ہے۔
وکی نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ اس بات پر حیران تھے کہ یہ جوتے اتنے عرصے تک کیوں سنبھال کر رکھے۔ انھوں نے کہا کہ: ’میں چاہتی تھی کہ جو شخص اپنے ملک کے ساتھ اس قدر محبت کرتا ہے اس کو یہ جوتے مل جائیں۔‘
سنہ انیس سو باسٹھ میں کرنل فیکادو کو یہ احساس نہیں تھا کہ جنوبی افریقہ کے جس شخص کو انھیں تربیت دینے کے لیے کہا گیا ہے اس کی جنوبی افریقہ میں کیا سیاسی اہمیت ہے۔
’ہمیں صرف اتنا معلوم تھا کہ وہ ایک مہمان ہے جو کچھ دن تک ہمارے ساتھ رہیں گے اور پھر واپس چلے جائیں گے۔‘
فیکادو نے کہا کہ ہر چیز کو خفیہ رکھا گیا اور وہ بالکل اندھیرے میں تھے۔
منڈیلا ایتھوپیا کے بادشاہ کی دعوت پر آئے تھے جو افریقہ سے نوآبادیات کے خاتمے اور آزادی کے سخت حمایتی تھے۔
اس وقت براعظم افریقہ میں ایتھوپیا کی فوج سب سے طاقت ور فوج تھی۔
اس کے فوجی انیس سو ساٹھ میں کانگو میں اقوام متحدہ کے امن دستوں میں بھی شامل تھے اور اس سے ایک دہائی قبل ایتھوپیا کے دستوں نے کوریائی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔

بادشاہ نے کئی افریقی ملک میں چلنے والے تحریکوں کے سرگرم کارکنوں کو فوجی تربیت کے لیے ایتھوپیا مدعو کیا تھا۔
گوریلا جنگ کے علاوہ نیلسن منڈیلا کو فوج کی قیادت کرنے اور دفاعی سائنس کی تعلیم بھی دی گئی۔
انھیں اس تربیت کے دوران پیدل سفر پر بھی لے جایا جاتا تھا جہاں انھیں اپنے سامان اور اپنی بندوق خود کمر پر اٹھا کر چلنا پڑتا تھا۔
منڈیلا کو تربیت کا یہ حصہ بہت پسند تھا اور وہ اس بارے میں اپنی کتاب ’لانگ واک ٹو فریڈیم میں بھی ذکر کرتے ہیں۔‘
منڈیلا کی ایتھوپیا میں تربیت چھ ماہ تک جاری رہنی تھی لیکن انھیں دو ہفتے بعد ہی جنوبی افریقہ جانا پڑا۔ وہ سات ماہ ملک سے باہر گزار چکے تھے۔
جب منڈیلا ایتھوپیا چھوڑنے لگے تو جنرل ٹیڈیسی نے انھیں ایک پستول اور دو سو گولیاں پیش کیں۔ یہ پستول للی لیوز فارم پر جہاں سے انیس سو تریسٹھ میں افریقن نیشنل کانگریس کے رہنما گرفتار کیے گئے تھے اور اسی فارم کی زمین میں کہیں یہ پستول دفن ہے۔
منڈیلا کو بھی پانچ اگست سنہ انیس سو باسٹھ میں گرفتار کیاگیا تھا جب وہ ملک واپس لوٹے ہیں تھے اور وہ اس وقت بھی فوجی وردی پہنے ہوئے تھے۔







