نائجیریا: ایمنٹسی انٹرنیشنل کی حراست میں ہلاکتوں پر تشویش

بوکو حرام نائجیریا میں اپنی طرز کی اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے لڑائی میں مصروف ہے
،تصویر کا کیپشنبوکو حرام نائجیریا میں اپنی طرز کی اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے لڑائی میں مصروف ہے

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کو کچلنے کےلیے جاری فوجی کارروائی کے دوران سینکڑوں لوگ حراستی مراکز میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بعض قیدخانوں میں اتنے لوگوں کو رکھا گیا ہے کہ بعض دم گھٹنے سے فوت ہوئے ہیں جبکہ باقی لوگ یا تو بھوک سے یا ماورائے عدالت ہلاکتوں میں مارے گئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق نائجیریا کی فوج کے ایک افسر نےتنظیم کو بتایا ہے کہ اس سال کے پہلے چھ مہینوں میں کم سے کم ساڑھے نو سو افراد دوران حراست ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد پر الزام تھا کہ ان کا تعلق شدت پسند تنظیم بوکو حرام سے ہے۔ تنظیم نے اس فوجی افسر کا نام ظاہر نہیں کیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی لوسی فریمین اس ٹیم میں شامل تھیں جنہیں نائجیریا کے ایسے بعض افراد سے بات کرنے کا موقع ملا ہے جو حراستی مراکز میں قید رہ چکے ہیں۔ ’جن لوگوں سے ہماری بات ہوئی ہے اُن لوگوں نے حراست کے دوران لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنتے اور مرتے ہوئے دیکھا تھا۔‘

نائجیریا کی حکومت کی طرف سے اب تک ایمنسٹی کی اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے مگر نائجیریا کی فوج ماضی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تمام الزامات رد کرتی رہی ہے۔

بوکو حرام نائجیریا کی حکومت کو ہٹانے اور وہاں اپنی طرز کی اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے لڑائی میں مصروف ہے۔

نائجیریا کی تین شمالی ریاستوں یوبے، بورنو اور ایڈاماوا میں شدت پسندوں کے حملوں میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کی بعد اس سال مئی میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی تھی۔

نائجیریا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایمنسٹی کی تازہ رپورٹ نے ملک کے شمالی علاقوں کی زندگی کے خوفناک پہلو کو اجاگر کیا ہے۔