بوکوحرام کے سربراہ ’ہلاک‘ کر دیے گئے

نائجیریا کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسلامی شدت پسند رہنما ابوبکر شیکاو ممکنہ طور پر سیکورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
لیفٹینٹ کرنل صغیر موسیٰ نے کہا کہ ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق بوکوحرام کے سربراہ شیکاو ممکنہ طور پر 25 جولائی اور تین اگست کی درمیان کسی وقت ہلاک ہو گئے ہیں۔
بوکوحرام نے 2009 سے نائجیریا کے خلاف بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ تنظیم نے اس بیان پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
امریکہ نے شیکاو کے سر کی قیمت 70 لاکھ ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹ میں عندیہ دیا گیا ہے کہ شیکاو کو 30 جون کو اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جب پولیس نے شمال مشرقی نائجیریا میں بوکوحرام کے ایک ٹھکانے پر چھاپا مارا تھا۔
کرنل موسیٰ نے کہا: ’شیکاو کو شدید زخم آئے تھے، جن کے بعد وہ کیمرون کی سرحد پر ایک بستی میں علاج کے لیے چلے گئے تھے ۔۔۔ قوی امکان ہے کہ وہ 25 جولائی اور تین اگست کے درمیان ہلاک ہو گئے ہوں۔‘
انھوں نے کہا کہ 13 اگست کو نشر کی جانے والی شیکاو کی ویڈیو میں ’ایک بہروپیے نے ان کا کردار ادا کیا تھا تاکہ اپنی تنظیم کے ارکان کی آنکھوں میں دھول جھونکی جائے اور دہشت گردی جاری رکھی جا سکے۔‘
14 اگست کو فوج نے کہا تھا کہ اس نے بوکوحرام کے نائب سربراہ مومود باما کو ہلاک کر دیا ہے، جو ’ابوسعد‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیکاو یا باما کی ہلاکت کی غیرجانب دارانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ 2009 میں بھی شیکاو کے مرنے کی خبر آئی تھی لیکن وہ بعد میں غلط ثابت ہوئی۔
2009 میں بوکوحرام کی بغاوت شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔
شیکاو کی قیادت میں بوکوحرام نے بم دھماکوں کو اغوا کی وارداتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس دوران کئی غیرملکی بھی اغوا کیے گئے ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم نائجیریا میں اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔







