نائجیریا: ’بوکو حرام کے شدت پسندوں کو شدید نقصان‘

نائجیریا کی فوج نے کہا ہے کہ ملک کے شمال مغرب میں فوجی آپریشن کی وجہ سے بوکو حرام شدت پسندوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ بڑی تعداد میں علاقہ چھوڑ رہے ہیں۔
فوج نے ایک بیان میں کہا کہ سنیچر سے ابھی تک 14 جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ 20 گرفتار ہوئے ہیں۔ بیان کے مطابق لڑائی میں تین فوج بھی مارے گئے ہیں۔
نائجیریا کے دارارلحکومت ابوجہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ویل راس کا کہنا ہے کہ فوج کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات کی تصدیق کرنا نا ممکن ہے۔
دریں اثنا بڑی تعداد میں سویلین افراد کی کیمرون اور نائجر میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں کیونکہ انہیں کشیدگی کی زد میں آنے کا خدشہ ہے۔
ان سرحدوں کو بند کرنے کے لیے کوششیں کی گئیں ہیں لیکن یہاں سے لوگوں کا آنا جانا ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ فوج کو سویلین اور بوکو حرام کے شدت پسندوں میں تفریق کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اس سے پہلے فوج نے کہا تھا کہ ملک کے شمال مشرق میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بنیادی مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔
نائجیریا کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل اولوکولادے نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ فوج ’نائجیریا کے ہر حصے کو باغیوں سے پاک کرنے تک آپریشن جاری رکھے گی۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’ہم اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے اڈوں، نقل و حمل کے ذرائع، اور اسلحے کو ہدف بنا رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بریگیڈیئر جنرل کرس اولوکولادے نے کہا تھا کہ اس آپریشن کا مقصد نائجیریا کی بطور ملک جغرافیائی سالمیت کو بحال رکھنا ہے۔
سنیچر کو مایدوغوری شہر میں 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔مایدوغوری اسلامی عسکریت پسند جماعت بوکو حرام کا اہم مرکز رہا ہے۔
اس سے قبل نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن نے عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے پے در پے حملوں کے بعد ملک کی تین شمال مشرقی ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔
امریکہ کے سیکرٹری خارجہ جان کیری نے نائجیریا کی فوج پر زور دیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران انسانی حقوق کی پامالی سے اجتناب کریں۔
انہوں نے کہا کہ نائجیریا کی فوج کے خلاف’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ کے مصدقہ الزمات ہیں۔
گذشتہ نومبر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نائجیریا کی فوج پر کارروائیوں کے دوران لوگوں کو اغوا کرنے اور ٹارچر کرنے کے الزامات لگائے تھے۔
نائجیریا میں 2010 پرتشدد واقعات میں ابھی تک 2000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے اکثر واقعات کا الزام بوکوحرام پر لگایا جاتا ہے۔







