نائیجیریا: بوکو حرام کے حملے میں 55 ہلاک

بوکو حرام کے دو سو کارکن بسوں اور پک اپس میں باما پہنچے
،تصویر کا کیپشنبوکو حرام کے دو سو کارکن بسوں اور پک اپس میں باما پہنچے

نائیجیریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروہ بوکو حرام نے ملک کے شمال مشرق علاقے میں حملہ کر کے پچپن افراد کو ہلاک جبکہ ایک سو پانچ قیدیوں کو رہا کرا لیا ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ صبح سویرے بورنو ریاست کے علاقے باما میں کیا گیا۔

حکام نے بتایا کہ باما کا پولیس سٹیشن، فوجی بیرک اور سرکاری عمارات کو آگ لگا کر مکمل تباہ کردیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار وِل روس کا کہنا ہے کہ یہ حملہ فوج کے اس تاثر کی نفی کرتا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کامیاب نہیں ہے۔

فوجی حکام کے مطابق بوکو حرام کے دو سو کارکن بسوں اور پک اپس میں باما پہنچے۔

’کچھ کارکنان نے فوجی بیرک پر حملہ کیا جس کو پسپا کردیا گیا۔ دس کے قریب شدت پسندوں کو مار دیا گیا اور متعدد کو گرفتار کر لیا گیا۔‘

حکام کے مطابق ’کچھ شدت پسند جیل میں داخل ہو گئے اور 105 قیدیوں کو رہا کرا لیا۔‘

فوجی حکام نے مزید کہا کہ حملہ آوروں میں سے چند نے فوجی یونیفارم پہن رکھی تھی اور شدت پسندوں کی یہ کارروائی پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔

حکام کے مطابق شدت پسندوں کے ہاتھوں مارے جانے والوں میں بائیس پولیس اہلکار، 14 جیل وارڈن، دو فوجی اور چار شہری شامل ہیں۔