فرانس: القاعدہ کے مشتبہ رکن نامین مازِیش کا ریمانڈ

پیرس کی ایک عدالت نے فرانس کے ایک باشندے کا مبینہ طور پر جرمنی میں القاعدہ کے سیل سے رابطے کے الزام میں ریمانڈ دیا ہے۔
یہ گروہ مبینیہ طور پر امریکہ میں ہونے والے گیارہ ستمبر کے حملوں ملوث ہے۔
نامین مازِیش الجیرین نژاد ہیں اور ان سے اب باقاعدہ تفتیش کی جائے گی۔
انہیں منگل کو پاکستان سے بے دخل کیا گیا تھا اور ان پر ایک دہشت گرد تنظیم کے حوالےسے مجرمانہ سازش کا الزام ہے۔
انہیں گذشتہ برس مئی میں ایران سے ملحق پاکستان کی سرحد سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اس سے قبل ان کے ہمراہ حراست میں لیے گئے تین دیگر فرانسیسی مشتبہ عسکریت پسندوں کو بھی فرانس بھیجا گیا تھا۔
نامین مازِیش القاعدہ کے ایک کمانڈر یونس الموریطانی کے نائب بتائے جاتے ہیں جنہیں مبینہ طور پر اسامہ بن لادن نے آسٹریلیا، یورپ اور امریکہ میں حملوں کی منصوبہ بندی کا حکم دیا تھا۔
فرانس میں انسدادِ دہشت گردی کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ ایک بڑی مچھلی ہے، القاعدہ کا تاریخی دل‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم تجزیہ کار کہتے ہیں گیارہ ستمبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے لیے نامین مازِیش کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ بھی غیر واضح ہے۔
نامین مازِیش سنہ انیس سو ستر میں پیرس میں پیدا ہوئے۔ وہ جرمنی جانے سے قبل پہلی مرتبہ سنہ انیس سو نوے میں افغانستان گئے۔
نامین مازِیش مبینہ طور پر القاعدہ کے ہیمبرگ سیل کے قریب تصور کیے جاتے ہیں جسے نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار سمجھاجاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی ہیمبرگ میں ایک قدامت پسند مسجد میں جہادیوں کو بھرتی کیا۔ اس مسجد کو حکام نے دو ہزار دس میں بند کر دیا تھا کیونکہ انہیں شک تھا کہ یہاں شدت پسندی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
امریکہ جانے سے قبل نائن الیون کے تین ہائی جیکرز اس مسجد میں باقاعدگی سے ملا کرتے تھے۔ جن میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ساتھ پہلا جہاز ٹکرانے والے محمد عطا شامل تھے۔
فرانس میں عدالت کے ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ نامین مازِیش کے خلاف مقدمہ جرمنی کے حکام کی جانب سے مہیا کی گئی سنہ انیس سو نوے کے بعد کی معلومات کی بنیاد پر چلایا جائے گا۔







