اٹلی: طغیانی کے باوجود تلاش کی امید باقی

اطالوی جزیرہ لامپیدوس میں کشتی کے حادثے میں مرنے والے 200 افراد کی لاشوں کو تلاش کرنے کے کام کو از سر نو شروع کرنے کے لیے غوطہ خور پر امید ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب سے تھوڑی دیر بعد تلاش کا کم شروع کر دیا جائے گا۔
واضح رہے اس سے قبل کشتی کے حادثے میں لاپتہ ہونے والے قریب دو سو افراد کی تلاش سمندر میں طغیانی کے باعث جمعہ کو وقتی طور پر روک دی گئی تھی۔
اٹلی کے ساحلی محافظوں کے ترجمان فلپّو میرینی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ’ہر چند کہ سمندر میں اب بھی طغیانی ہے لیکن اگر کشتی کے اندر جانے کے لیے کوئی دروازہ کھلتا ہے تو ہمارے غوطہ خور نیچے جانے کے لیے تیار ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے محفوظ ہوگا‘۔
شروع میں لاشوں کو نکالنے کی یہ مہم لامپیدوس کے علاقے میں ریبٹ جزیرے پر مرکوز رہی لیکن اب اس کے دائرے کو وسیع کر دیا گیا ہے۔
غوطہ خوروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے کشتی پر خوفناک مناظر دیکھے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے ایلن جانسٹن کا کہنا ہے کہ اطالوی باشندے اس حادثے سے صدمے کے عالم میں ہیں اور یہ اٹلی کے تاریکین وطن کا سب سے بڑا حادثہ ہے۔

اٹلی میں حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک 111 لاشوں کو تلاش کر لیا گیا ہے جبکہ 155 افراد کو بحیرہ روم کے اس جزیرے سے ایک کلومیٹر کے فاصلے سے زندہ بچا لیا گیا ہے۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جہاں کشتی غرقاب ہوئی تھی وہاں سے مزید نعشیں برآمد ہو سکتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارۂ برائے پناہ گزیناں کے مطابق کشتی پر سوار زیادہ تر افراد کا تعلق افریقی ممالک صومالیہ اور ایریٹیریا سے تھا۔
کشتی کے حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ جب وہ سب لامپیدوس کے قریب پہنچ رہے تھے اس وقت اس 20 میٹر لمبی کشتی کا انجن خراب ہو گیا تھا اور اس کے اندر پانی داخل ہونے لگا تھا۔
اس وقت کشتی میں سوار بعض لوگوں نے دوسری کشتیوں اور جہازوں کو متوجہ کرنے کی غرض سے آگ جلائی جو کہ پوری کشتی میں پھیل گئی۔
لیبیا کی بندرگاہ مصراتہ سے آنے والی یہ کشتی اس وقت غرقاب ہونے لگی جب آگ سے بچنے کے لیے کشتی پر سوار سارے لوگ کشتی میں ایک طرف آگئے۔
یواین ايچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق سنہ 1988 سے اب تک اس طرح کے حادثے میں یورپ کا رخ کرنے والے 19142 غیر قانونی تاریکین وطن ہلاک ہو چکے ہیں۔







