حملہ آور شاپنگ مال میں کرائے دار تھے

چار دن تک جاری رہنے والے اس حملے میں بتایا جا رہا ہے کہ 67 افراد ہلاک ہوئے
،تصویر کا کیپشنچار دن تک جاری رہنے والے اس حملے میں بتایا جا رہا ہے کہ 67 افراد ہلاک ہوئے

کینیا میں گزشتہ دنوں ایک شاپنگ مال پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں نے حملے سے پہلے مال میں ایک دکان کرائے پر لی تھی جس میں حملے کی تیاری کی گئی تھی۔

یہ بات کینیا کے سینئر سیکورٹی حکام نے بی بی سی کو بتائی جس میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دکان کرائے پر لینے کی وجہ سے ان لوگوں کی دسترس میں شاپنگ مال کی سروس لفٹ تک ہو گئی اور اسی کی مدد سے ان لوگوں نے شاپنگ مال میں ہتھیار اور دوسرے سامان جمع کئے۔

اسی کی بدولت وہ جارحانہ پوزیشن میں کینیا کی پولیس کا مقابلہ کرتے نظر آئے اور ہتھیار ختم ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر دوسرے ہتھیار مل گئے تھے۔

چار دن تک چلنے والے اس حملے میں بتایا جا رہا ہے کہ 67 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کینیا کے ریڈ کراس ادارے کا کہنا ہے کہ 61 افراد ابھی بھی لاپتا ہیں۔

القاعدہ سے منسلک صومالی شدت پسند گروپ القاعدہ شباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

بی بی سی نے اس حملے کے بارے میں جب تہہ تک پہنچے کی کوشش کی تو پتا چلا کہ کس طرح شدت پسند حملے کو انجام دینے میں کامیاب رہے اور کس طرح بدعنوانی کی وجہ سے سیکورٹی میں لاپرواہی کے نتیجے میں اس قدر جانی نقصان ہوا۔

کینیا کے ریڈ کراس ادارے کا کہنا ہے کہ 61 افراد ابھی بھی لاپتا ہیں
،تصویر کا کیپشنکینیا کے ریڈ کراس ادارے کا کہنا ہے کہ 61 افراد ابھی بھی لاپتا ہیں

ظاہر ہے شاپنگ مال میں دکان کو کرایہ پر لینے کے لئے شناختی کارڈ کی ضرورت رہی ہوگی جو کہ بدعنوان حکام نے انہیں فرضی شناختی کارڈ مہیا کیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شاپنگ مال میں جانے سے پہلے حملہ آور دو گاڑیوں میں بیٹھ کر وہاں تک آئے تھے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے پہلی منزل پر واقع ایک کھڑکی کو اپنی بنیاد بنایا تھا جہاں سے وہ فائرنگ بھی کر رہے تھے اور وہیں چھپے بھی تھے۔

پیر کو کئی سیکورٹی ایجنسیوں کے سربراہوں کو پارلیمنٹ کی دفاعی امور کی کمیٹی کے سامنے حاضر ہونے کو کہا گیا ہے۔

تاہم حملہ آوروں کی صحیح تعداد اور ان کی قومیت کے بارے میں ابھی بھی شک و شبہات موجود ہیں۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے الشباب کے سینئر ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حملہ آوروں کے نام جاری نہیں کریں گے۔

صومالیہ میں الشباب کے خلاف لڑنے والی حکومت حامی افواج کے ساتھ لڑنے کے لیے کینیا نے تقریبا چار ہزار فوجیوں کو بھیج رکھا ہے۔ امریکہ اور روس نے اس تنظیم پر پابندی لگا رکھی ہے اور ایسا مانا جا رہا ہے کہ صومالیہ میں اس گروپ کے تقریبا سات ہزار سے نو ہزار کے درمیان جنگجو ہیں۔