شام پر حملے کا خطرہ اور عالمی رائے عامہ

اگر ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی شام پر حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں تو دوسری طرف اسرائیلی گیس ماسک ڈھونڈ رہے ہیں جب کہ دوسری طرف تیل کی قمیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

شام پر حملے کی صورت میں متاثر ہونے والے بعض ملکوں میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے وہاں گلی کوچوں میں رائے عامہ کی عکاسی کچھ یوں کی ہے۔

دہلی سے نیتن سری واستو

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ’اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی تو تیل مہنگا ہو جائے گا
،تصویر کا کیپشناکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ’اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی تو تیل مہنگا ہو جائے گا

شامی تنازع شروع ہونے کے بعد بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں سے کہا تھا کہ وہ شام سے نکل جائیں۔ اس کے وجہ سے اب وہاں بہت کم بھارتی شہری رہ گئے ہیں۔

شام پر حملے کی بات سن کر اکثر بھارتی شہری بھویں تان دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اسے عراق میں تشدد کے ساتھ الجھا دیتے ہیں۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ’کیا امریکہ ایک اور جنگ کرنے جا رہا ہے؟‘ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید امریکہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ ایک اور جنگ شروع کر سکے۔

لیکن ایک بات پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ ’اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی تو تیل مہنگا ہوگا۔‘

بھارت تیل کی درآمد پر بہت انحصار کرتا ہے اور حالیہ مہینوں میں خام تیل کی قیمتوں میں پے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

پیرس سے ہیو شوفیلڈ

شام پر حملے کے بارے میں عوامی رائے محتاط ہے۔ اختتامِ ہفتہ پر ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر پر عوام میں غم و غصہ پایا گیا اور اس پر کارروائی کرنے کا ردِ عمل سامنے آیا۔

لیکن اب عوامی جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ معمولی اکثریت اقوامِ متحدہ سے منظوری کے بعد شام پر حملے کے حق میں ہے۔

اقوامِ متحدہ کی زیرِ سرپرستی شام پر حملے کے امکانات بہت کم ہیں۔

برلن سے سٹیون ایوانز

اس ہفتے برلن میں لوگوں نے جنگ کے خلاف احتجاج کیا
،تصویر کا کیپشناس ہفتے برلن میں لوگوں نے جنگ کے خلاف احتجاج کیا

اس ہفتے کے اوائل میں کیے گئے سروے کے مطابق جرمن عوام شام پر حملے کے سخت مخالف ہیں۔

سروے کرنے والے مشہور ادارے فورسا کے مطابق سروے کیے گئے افراد میں 69 فیصد نے شام پر حملے کی مخالفت کی جب کہ 23 فیصد افراد نے اس کی حمایت کی۔

حملے کی حمایت کرنے والے اقلیتی گروپ بھی شام پر حملے میں جرمنی کی شمولیت نہیں چاہتے۔ باالفاظِ دیگر وہ شام پر ایسے حملے کے حق میں ہیں جس میں جرمنی حصہ نہ لے رہا ہو۔

جرمنی میں وفاقی پارلیمانی انتخابات ایک مہینےمیں ہونے والے ہیں جس کی وجہ سے حکومت احتیاط سے کام لے رہی ہے۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ گیویڈو ویسٹرویلی نے کہا: ’اگر شامی عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق ہوتی ہے تو عالمی برادری کو پھر شام کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔‘

بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے شام میں جرمنی کی طرف سے مداخلت کے سخت خلاف ہیں لیکن دوسرے لوگ اس پر منقسم ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جرمنی کے ماضی وجہ سے اس کے لیے شام میں قتل وغارت کو روکنے کے لیے مداخلت ضروری ہے۔

ماسکو سے ڈینئل سٹینفرڈ

ماسکو کے باہر میٹرو سٹیشن پر غیر سائنسی انداز میں کیے گئے سروے سے پتہ چلا کہ بہت ہی کم لوگ شام پر حملے کے حق میں ہیں۔

اس بات پر لوگوں میں اتفاق نہیں تھا کہ شام میں کیمیائی حملے کس نے کیے۔

ماسکو کے بعض باشندوں کا خیال ہے کہ اس کے ذمہ دار صدر بشارالاسد ہیں جبکہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ حملے امریکہ یا باغیوں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہے۔

لیکن کسی نے بھی نہیں کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ردِعمل کے طور پر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو شام پر فضائی یا میزائل حملے کرنے چاہییں۔ ان کا اصرار ہے کہ امریکہ کو اس تنازعے سے دور رہنا چاہیے۔

روس شام کا قریبی دوست ہے لیکن شام روس کے عام لوگوں کے ایجنڈے پر کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

ٹریپولی، لبنان سے کوئینٹین سومرویلی

لبنان کے شہر ٹریپولی میں شامی روڈ تابانح اور جبل مہسن کو سنی شیعہ فرقوں کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے جس کے دونوں طرف نشانہ باز بیٹھے ہوتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں سنی شیعہ تناؤ نے یہاں بھی ان علاقوں کو تقسیم کیا ہوا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو مہینے میں یہاں جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے جب کہ بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

عمارتوں پر گذشتہ جھڑپوں کے اثرات نظر آ رہے ہیں اور اس پر گولیاں کے بعض نشانات تازہ ہیں۔

اگر ایک طرف لوگ شام میں لڑائی کے دوران ہلاک ہونے والوں کے بڑے پوسٹر لگا کر ان کو عزت افزائی کرتے ہیں تو دوسری طرف والے ان پوسٹروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

شام میں جاری کشیدگی کو لبنان کی گلیوں میں براہِ راست محسوس کیا جا رہا ہے۔

تل ابیب سے رچرڈ گالپن

تل ابیب میں درجۂ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے اور گیس ماسک تقسیم کرنے والے سنٹر کے باہر لوگوں کی لمبی قطار لگی ہوئی ہے۔

بعض لوگوں کو یہ ماسک حاصل کرنے میں چھ گھنٹے لگے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اس کی اتحادیوں کی طرف سے شام پر حملے کی صورت میں یہ گیس ماسک ان کے کام آئیں گے۔

یہاں پر لوگوں کو خدشہ ہے کہ شام پر حملے کی صورت میں شامی فوج یا جنوبی لبنان سے حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔

گیس ماسک حاصل کرنے کے لیے قطار میں کھڑی یولیا کہتی ہیں کہ ’یہ میرے اور میرے بچے کے لیے خوفناک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ’یہ میرے لیے اس لیے بھی خوفناک ہے کہ میرے شوہر کو فوجی خدمات کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔ہمارے لیے اس حملے کے اثرات انتہائی برے ہوں گے۔‘