’نیلسن منڈیلا کی صحت مستحکم لیکن نازک‘

نیلسن مینڈیلا گذشتہ دو ماہ سے پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث پریٹوریا کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں
،تصویر کا کیپشننیلسن مینڈیلا گذشتہ دو ماہ سے پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث پریٹوریا کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں

جنوبی افریقہ کے صدارتی دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر نیلسن منڈیلا کی صحت نازک ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق پچانوے سالہ منڈیلا کی ’صحت مستحکم لیکن نازک ہے‘۔

خیال رہے کہ نیلسن مینڈیلا گذشتہ دو ماہ سے پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث پریٹوریا کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

گذشتہ دو برسوں میں مینڈیلا پانچ بار ہسپتال جا چکے ہیں۔ اپریل میں انھیں نمونیا کی وجہ سے دس دن ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔

جوہانسبرگ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مائیک وول بریج کا کہنا ہے حکومت نیلسن منڈیلا کی ’صحت بہتر لیکن نازک ہے‘ کی اصلاح کئی ہفتوں سے استعمال کر رہی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق ہفتے کو جاری ہونے والے بیان میں نیلسن منڈیلا کی صحت کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

صدارتی بیان کے مطابق ڈاکٹرز نیلسن منڈیلا کی صحت میں بہتری لانے کے لیے بھر پور کوششیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی حالت میں قدرے بہتری آئی ہے۔

ادھر جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے جو ملائیشیا کا سرکاری دورے کرنے والے ہیں لوگوں سے نیلسن منڈیلا کی صحت یابی کی دعا کرنے کی استدعا کی ہے۔

نیلسن مینڈیلا سنہ 1994 سے 1999 کے دوران جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہے ہیں۔ انھوں نے سنہ 2004 کے بعد سے عوامی مصروفیات کو الوداع کہہ دیا تھا۔

مینڈیلا نے 20 سال سے زیادہ عرصہ قید میں گزارا اور انھیں فروری 1990 میں رہائی ملی تھی۔

انہیں اپنے ملک پر نسل پرستی کی بنیاد پر قابض سفید فام حکمرانوں کے خلاف پر امن مہم چلانے پر سنہ 1993 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔