میں عورت ہوں: بریڈلی میننگ

امریکی فوجی بریڈلی میننگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بطور عورت زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے خفیہ سرکاری دستاویزات وکی لیکس کے ذریعے سے افشا کی تھیں جس پر انھیں 35 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
انھوں نے امریکی ٹیلی ویژن این بی سی کے پروگرام ٹوڈے میں ایک بیان میں کہا: ’میرا نام چیلسی میننگ ہے اور میں عورت ہوں۔‘
25 سالہ میننگ نے کہا کہ وہ بچپن ہی سے اپنے آپ کو لڑکی محسوس کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ فوری طور پر ہارمون تھراپی شروع کرنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ انھیں چیلسی کہہ کر پکارا جائے۔
پرائیویٹ میننگ کو جاسوسی سمیت دوسرے الزامات کے تحت 35 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم ان کے وکیل ڈیوڈ کومبز نے کہا ہے کہ انھیں سات برس کے بعد پیرول پر رہائی مل سکتی ہے۔
کومبز نے صدر براک اوباما سے درخواست کی ہے کہ وہ میننگ کو معافی دے دیں، اور کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
وگ اور لپ سٹک
میننگ ریاست کینسس کی فورٹ لیون ورتھ جیل میں اپنی سزا پوری کریں گے۔ ان کے وکیل نے کہا کہ اگر جیل کے حکام نے انھیں ہارمون تھراپی دینے سے انکار کیا تو وہ قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میننگ نے ابھی یہ نہیں کہا کہ وہ آیا تبدیلیِ جنس کا آپریشن کروانا چاہتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب یہ سوال کیا گیا کہ میننگ نے سزا ملنے کے ایک دن بعد یہ اعلان کیوں کیا ہے تو کومبز نے کہا: ’چیلسی یہ نہیں چاہتی تھیں کہ اس کی وجہ سے ان کا کیس پس منظر میں چلا جائے۔‘
میننگ کے خلاف کورٹ مارشل کے مقدمے میں وکلائے صفائی نے ان کی جنس کے باعث شناخت کے مسئلے کو کلیدی نکتہ بنایا تھا۔
وکلائے صفائی کے گواہوں، بشمول ان کے ڈاکٹروں، نے شہادت دی تھی کہ میننگ جنس تبدیل کر کے عورت بننا چاہتے تھے۔ انھوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ ان مسائل کی وجہ سے ان کی ذہنی حالت متاثر ہوئی۔
میننگ کے ایک سابق فوجی افسر نے عدالت کو بتایا کہ میننگ نے انھیں اپنی ایک تصویر بھیجی تھی جس میں انھوں نے سنہرے بالوں والی وگ پہن رکھی تھی اور ہونٹوں پر سرخی لگائی ہوئی تھی۔







