مصر: خوش امیدی سے المیے تک

مصر کے لیے بہترین نقشۂ راہ یہی ہے کہ عوام کو معاشرتی سکون پر راضی کیا جائے لیکن اس وقت ایسا ہو نہیں رہا
،تصویر کا کیپشنمصر کے لیے بہترین نقشۂ راہ یہی ہے کہ عوام کو معاشرتی سکون پر راضی کیا جائے لیکن اس وقت ایسا ہو نہیں رہا
    • مصنف, جیریمی بوئن
    • عہدہ, مشرقِ وسطیٰ میں بی بی سی کے نامہ نگار

مصر کے عوام فروری 2011 میں اس وقت کے صدر حسنی مبارک کے طویل دورِ اقتدار کے خاتمے پر ملک کے مستقبل کے بارے میں جس خوش امیدی کا شکار تھے وہ اب دور دور تک دکھائی نہیں دے رہی۔

اس وقت مصریوں کو لگا تھا کہ یہ ان کے لیے ایک نیا آغاز ہے اور عام آدمی کی زندگی میں بہتری کی امید پورے ملک میں پائی جا رہی تھی۔

لیکن سیاسی ناکامیوں، اقتصادی بحران اور اربابِ اقتدار کی جانب سے ذاتی مفادات کو بالاتر رکھنے کی وجہ سے امیدوں کا یہ محل زمیں بوس ہوگیا۔

دیگر عرب ممالک کی طرح مصر میں بھی 2011 کا انقلاب عوامی بےچینی اور نئی نسل کے غیض و غضب کا نتیجہ تھا۔

اس خطے میں ساٹھ فیصد آبادی ایسی ہے جس کی عمر تیس برس سے کم ہے اور انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ قدیم حکومتیں ان کے لیے نہیں ہیں اور وہ ان کی موجودگی میں ایک ایسی زندگی حاصل نہیں کر سکتے جہاں وہ خودمختار اور خوش محسوس کر سکیں۔

اس ناامیدی کے ساتھ ساتھ ان افراد کو جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کی مدد بھی حاصل تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ماضی کے برعکس ان کے حکمرانوں کے لیے ان کی آواز دبانا آسان نہیں تھا۔

اس تیس برس سے کم عمر نسل کو سیٹیلائٹ ٹی وی اور انٹرنیٹ کی مدد سے اس بات کا ادراک ہوا کہ ہر کسی کی زندگی اتنی مشکل نہیں جتنی کہ ان کی بنا دی گئی ہے۔

لیکن 2011 کے ان انقلابیوں کا جوش مصر میں ان اربابِ اقتدار اور اسٹیبلشمنٹ نے دبا دیا جن میں فوج، سابق اشرافیہ کے بقایا جاتا اور اخوان المسلمین شامل تھے۔

گزشتہ برس کے صدارتی انتخاب میں عوام کے پاس چناؤ کے لیے دو ہی شخصیات تھیں۔ ایک تھے اخوان المسلمین کے محمد مرسی تو ان کے مدِمقابل سابق صدر حسنی مبارک کے وزیراعظم اور مصری فضائیہ کے سابق جنرل تھے۔

مصر میں آج ایک مرتبہ پھر ہنگامی حالت نافذ ہے جس کے تحت ریاست کو ’ڈارکونین‘ اختیارات حاصل ہیں
،تصویر کا کیپشنمصر میں آج ایک مرتبہ پھر ہنگامی حالت نافذ ہے جس کے تحت ریاست کو ’ڈارکونین‘ اختیارات حاصل ہیں

اقتدار کی یہ دوڑ جیتنا تو کجا اس دوڑ میں اپنا ایک امیدوار لانا بھی تحریر سکوائر کے ان غیرمنظم انقلابیوں کے بس کی بات نہیں تھی۔

اور پھر جب محمد مرسی مصر کے نئے صدر بنے تو انہوں نے تمام مصریوں کا صدر ہونے کا اعلان کیا لیکن وہ اپنے اس اعلان کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے۔

اخوان المسلمین جس نے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے لیے 80 برس سے زیادہ عرصے تک کوشش کی، وہ اس موقع کو مصر کو اپنے مطابق ڈھالنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھی۔

محمد مرسی نے اپنے اقدامات سے یہ تاثر دیا کہ انہیں مصر کو ایک اسلامی ریاست کی شکل دینے کے لیے بھاری عوامی مینڈیٹ حاصل ہے۔ مصر میں اکثر افراد نیک مسلمان ہیں لیکن اس کا خودبخود مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے ملک کے بارے میں اخوان المسلمین کے نظریے سے متفق بھی ہیں۔

حالات اس وقت مزید بگڑے جب صدر مرسی کی چنندہ انتظامیہ اپنے عہدوں کی اہل ثابت نہ ہوئی اور ملک کی معیشت کی بحالی کا وعدہ صرف وعدہ ہی رہا۔

اور جون 2013 میں وہ وقت آیا جب ملکی معیشت پر عدم اطمینان اور حکومت کے اسلامی ایجنڈے نے عوام کو پھر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا۔

ملکی معیشت پر عدم اطمینان اور حکومت کے اسلامی ایجنڈے نے عوام کو پھر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا
،تصویر کا کیپشنملکی معیشت پر عدم اطمینان اور حکومت کے اسلامی ایجنڈے نے عوام کو پھر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا

جون کے اختتام تک عوامی جوش اور غصہ اس حد تک پہنچ گیا کہ احتجاجی جلوس میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں شریک ہونے لگے اور یوں فوج کو محمد مرسی کو عہدۂ صدارت سے معزول کرنے کا موقع مل گیا۔

فوج کے اس اقدام کو مصر میں اخوان المسلمین کے سوا ہر حلقے سے پذیرائی ملی۔

امن کے نوبل انعام یافتہ محمد البرادعی بھی اس اقدام کے حامیوں میں شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی فوجی بغاوت نہیں بلکہ عوامی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش ہے اور اس سے مصری عوام کو اپنی جمہوریت کو دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملے گا۔

لیکن یہ بھی ہو نہ سکا اور اب تک جنرل عبدالفتح السیسی کا یہ اقدام اس سکیورٹی سٹیٹ کو بحال کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے جس پر حسنی مبارک 30 برس تک حکمران رہے۔

مصر میں آج ایک مرتبہ پھر ہنگامی حالت نافذ ہے جس کے تحت ریاست کو ’ڈارکونین‘ اختیارات حاصل ہیں۔

محمد البرادعی فوج کی جانب سے قائم جانے والی حکومت کے نائب صدر کی حیثیت سے مستعفی ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

اخوان المسلمین ہو یا فوج دونوں کے حامیوں کی تعداد کم نہیں اور یہ سب لوگ مانتے ہیں کہ مصر کی اگلی نسل کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور یہ سب ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں لیکن مستقبل کے بارے میں ان کے خیالات ایک دوسرے سے کہیں الگ ہیں۔

مصر کے لیے بہترین نقشۂ راہ یہی ہے کہ عوام کو معاشرتی سکون پر راضی کیا جائے لیکن اس وقت ایسا ہو نہیں رہا اور اختلافات مذاکرات کی میز کی بجائے گلیوں اور بازاروں میں دوبدو لڑائی کے ذریعے طے کیے جا رہے ہیں جو کہ ایک المیہ ہے۔