بائیکاٹ کے باوجود کویت میں پارلیمانی انتخابات

کویت میں ووٹر ایک سال میں دوسری مرتبہ نئی پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔
ان انتخابات کا حزب اختلاف کے بعض گروہوں کی جانب سے بائیکاٹ کیا گیا ہے۔
دسمبر میں منتخب ہونے والی پارلیمنٹ کو ملک کی آئینی عدالت نے انتخابات کے طریقہ کار میں نقص کی بنیاد پر تحلیل کر دیا تھا۔
خلیجی ریاستوں میں پارلیمانی اختیارات کے حوالے سے کویتی پارلیمنٹ سب سے زیادہ طاقتور ہے لیکن سیاسی تنازعات کی وجہ سے اس کے کام میں رکاوٹ حائل رہی ہے۔
گذشتہ اکتوبر میں کویت کے امیر نے انتخابی قوانین میں تبدیلی کا حکم دیا تھا جس کے بعد حزب اختلاف کے گروہوں نے جس میں اسلام پسند اور آزاد خیال جماعتیں دونوں شامل ہیں، دسمبر کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
نئے قانون کے مطابق ایک ووٹر چار کی بجائے اب صرف ایک رکن کو ہی منتخب کر سکتا ہے۔ امیر کا کہنا تھا کہ اس سے پارلیمان میں لوگوں کی صحیح نمائندگی ہو سکے گی۔
اس حکم نامے کے مخالفین کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد حزب اختلاف کو کمزور کرنا ہے اور انتخابات کے طریقہ کار میں کسی قسم کی تبدیلی کو پارلیمنٹ کی منظوری حاصل ہونی چاہیے۔
تاہم حزب اختلاف کے چند امیدوار ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کویت کی پارلیمنٹ کو نئے قوانین بنانے کے اختیارات حاصل ہیں اور وہ حکومتی وزراء کا احتساب بھی کر سکتی ہے۔ تاہم ریاستی معاملات میں ملک کے امیر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔
وزیر اعظم کابینہ کا انتخاب کرتا ہے اور وزیر اعظم کو ملک کے امیر منتخب کرتے ہیں۔ حکمراں الصباح خاندان کے افراد تمام اہم عہدوں پر فائص ہیں۔
کویت میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرین ٹوربی کا کہنا ہے کہ سات سال کے عرصے میں چھ انتخابات کی وجہ سے انتخابات کے حوالے سے کویت کے شہریوں کا جوش و جذبہ ماند پڑھ گیا ہے۔
ہماری نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور ماہِ رمضان کی وجہ سے بھی انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے شہریوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ملک کو درپیش کئی مسائل میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔







