ہسپانیہ میں ریل گاڑی کا ڈرائیورگرفتار

ہسپانیہ میں پولیس نے کہا ہے کہ بدھ کو حادثے کا شکار ہونے والی ریل گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔حادثے میں اٹھہتر لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
ڈرائیور فرانسِسکو خوسے گارسون آمو زخمی ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہیں حادثات سے متعلقہ جرائم کے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
حادثے کے بعد یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ ریل گاڑی قانونی حد سے دوگنی رفتار پر سفر کر رہی تھی۔ ریل گاڑی کا بلیک باکس تفتیش کرنے والے جج کے پاس ہے۔
یہ واضح نہیں کہ ریل گاڑی کے ڈرائیور کے علاوہ بھی لوگ تفتیش میں شامل ہیں یا نہیں۔ ہسپانیہ میں حادثے کے بعد قومی سطح پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق ڈرائیور فرانسِسکو کی عمر باون برس ہے اور وہ تیس برس سے ریلوے فرم رینفے میں کام کر رہے ہیں۔ رینفے کے سربراہ ہولیو گومیز پومار کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی ریل گاڑی میں کوئی نقص نہیں تھا۔
اس سے قبل ہسپانیہ کے بادشاہ جون کارلوس نے کہا تھا کہ وہ ملک کے شمال مغربی علاقے میں ٹرین کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے دکھ درد میں شریک ہیں۔
سپین کے بادشاہ نے جمعرات کو سینتیاگو کومپوستیلا میں ہسپتال میں زیرِعلاج ٹرین کے حادثے میں زخمی ہونے والے افراد سے ملاقات کی تھی۔
بدھ کی رات کو پیش آنے والے اس حادثے میں کم از کم 80 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جن میں سے 32 شدید زخمی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حادثے میں ہلاک اور خمی ہونے والے افراد میں کئی ممالک کے شہری شامل ہیں۔
ہسپانیہ کے وزیرِاعظم ماریانو رجوائے نے بھی، جن کا تعلق حادثے والے شہر سینتیاگو کومپوستیلا سے ہے، جمعرات کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ’سینتیاگو کومپوستیلا کے رہائشی باشندہ ہونے کی حیثیت سے یہ میرے لیے افسوس ناک دن ہے۔‘







