نازیوں کی تلاش کے لیے پوسٹر مہم کا آغاز

امریکہ میں قائم سائمن ویزنتل سینٹر نے جرمنی میں جنگی جرائم کے مرتکب نازیوں کی تلاش اور انصاف کے کٹھرے میں لانے کے لیے پوسٹر مہم شروع کی ہے۔
یہ پوسٹر برلن، ہیمبرگ اور کولون میں آویزاں کیے گئے ہیں۔ ان پوسٹرز میں نازیوں کا اوشوٹز کیمپ دکھایا گیا ہے۔
اس پوسٹر مہم میں لوگوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ نازی جرمنی کے ان افراد کی معلومات فراہم کریں جو جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔
امریکی سینٹر نے معلومات فراہم کرنے کے عوض انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق جرمنی میں ساٹھ نازی ایسے ہیں جو زندہ ہیں اور ان پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان افراد میں سے چند نے اوشوٹز کیمپ میں محافظوں کی ڈیوٹی سرانجام دی تھی یا پھر اس کیمپ میں فائرنگ کر کے ہلاک کرنے کے کام پر مامور تھے۔
امریکی سینٹر کے یروشلم میں برانچ کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے ’بدقسمتی سے بہت کم لوگوں نے اپنے جرم کی سزا کاٹی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جرم کی سنگینی میں کمی واقع نہیں ہوتی۔‘
اس مہم کا نام ’آپریشن لاسٹ چانس ٹو‘ (آخری موقع دوم) ہے۔ سینٹر نے معلومات فراہم کرنے کے عوض پچیس ہزار یورو کے انعام کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ سینٹر یہودیوں کا امریکہ میں سب سے بڑا سینٹر ہے۔ اس سینٹر نے معلومات حاصل کرنے کے لیے ہاٹ لائن بھی قائم کی ہے۔
یہ پوسٹر مہم اس وقت شروع کی گئی ہے جب دو سال قبل ہی یوکرین میں پیدا ہونے والے جان ڈیمجانک کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جان نازی کیمپ میں محافظ تعینات تھے۔
جان کو 2011 میں سزا سنائی گئی۔ تاہم وہ 2012 میں 91 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
سائمن ویزنتل سینٹر کا کہنا ہے کہ جان کو دی گئی سزا کے باعث جرمنی کے حکام سینکڑوں تحقیقات کو دوبارہ شروع کر سکیں گے۔
بی بی سی کے نامہ نگار سٹیون ایونز کا کہنا ہے کہ جرمنی میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک وہ ہیں جو عمر رسیدہ افراد ہیں جن کے خیال میں جنگی جرائم کے مرتکب افراد کا قبر تک پیچھا کرنا چاہیے۔ اور دوسری رائے رکھنے والے نوجوان افراد ہیں جن کا کہنا ہے کہ یہ موجودہ جرمنی کا ماضی تھا۔







