انتخابات میں کامیابی سے استحکام آئے گا: جاپانی وزیرِاعظم

جاپانی انتخابات میں ایک عورت ٹوکیو میں اپنا ووٹ ڈال رہی ہے
،تصویر کا کیپشنجاپانی انتخابات میں ایک عورت ٹوکیو میں اپنا ووٹ ڈال رہی ہے

جاپانی وزیرِاعظم شنزو آبے نے کہا ہے کہ اتوار کے روز ہونے والے ایوانِ بالا کے انتخابات میں ان کی متوقع کامیابی سے پائیدار کابینہ بنانے میں مدد ملے گی جس سے سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ہو گا۔

جاپانی ریڈیو این ایچ کے کے مطابق ووٹروں سے لیے گئے سروے کے مطابق ان کی اتحادی جماعتوں نے 121 میں سے کم از کم 76 نشستیں حاصل کی ہیں۔

اس سے آبے کو چھ برسوں میں پہلی بار دونوں ایوانوں میں برتری حاصل ہو جائے گی۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ انتخابات کا نتیجہ ان کی قدامت پرستانہ سیاسی اور معاشی اصلاحات کی توثیق کرتا ہے۔

انھوں نے اتوار کے روز نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں لوگوں سے معاشیات کو بہتر بنانے اور ٹھوس اور مستحکم سیاسی پالیسیوں کے لیے بے پناہ حمایت وصول ہوئی ہے۔‘

ٹوکیو میں بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ ونگ فیلڈ ہیز کہتے ہیں کہ اس متوقع نتیجے کو آبے پر اعتماد کے ووٹ کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس طاقت آ گئی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کے پاس کچھ کر دکھانے کا عزم بھی موجود ہے یا نہیں۔

سرکاری نتائج پیر کے دیر گئے تک آئیں گے، تاہم ووٹروں سے لیے گئے سروے کے مطابق آبے 242 نشتوں والے ایوان میں 130 نشستیں لے کر برتری حاصل کر لیں گے۔ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں نصف نشستوں پر مقابلہ ہوا تھا۔

مرکزی حزبِ اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی آف جاپان کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ 17 نشستیں حاصل کرے گی۔

میڈیا پر آنے والی رپورٹوں کے مطابق ٹرن آوٹ کم رہا۔

جاپان کا ایوانِ بالا ایوانِ زیریں کی مانند طاقت ور نہیں، تاہم یہ حکومت کی جانب سے قانون سازی مسدود کر سکتا ہے۔

حزبِ مخالف کی جماعتوں نے حالیہ برسوں میں ایوانِ بالا پر قبضہ جمائے رکھا ہے، جس کی وجہ سے جاپانی پارلیمان کو ’ٹیڑھی پارلیمان‘ کہا جاتا رہا ہے۔

اس کی وجہ سے دھڑے بازی میں تیزی آئی ہے اور وزرائے اعظم بار بار بدلے ہیں۔ آبے نے انتخابات سے پہلے کہا تھا: ’ہمیں اپنی پالیسیاں جاری رکھنے کے لیے سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔‘

58 سالہ آبے کو اپنی معاشی اصلاحات کے لیے مضبوط عوامی حمایت حاصل رہی ہے۔ ان اصلاحات کو ’آبے نامکس‘ کہا جاتا ہے اور ان کا مقصد جاپانی معیشت کو بحال کرنا ہے جو دو عشروں سے جمود کا شکار ہے۔

جب سے ان کی اتحادی حکومت اقتدار میں آئی ہے، معیشت میں چار فیصد بڑھی ہے اور سٹاک مارکیٹ میں 40 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

توقع ہے کہ شنزو آبے معیشت کے علاوہ بھی بعض متنازع پالیسیوں کی توثیق کریں گے۔

ان میں جاپان کے جوہری بجلی گھروں کو دوبارہ چالو کرنا ہے۔ جاپان میں بہت سے لوگ اس کے خلاف ہیں کیوں کہ 2011 میں جاپان میں زبردست سونامی کے بعد ایٹمی ریکٹروں کو نقصان پہنچا تھا اور ان سے تابکاری خارج ہوئی تھی۔