ڈھاکہ:جماعت اسلامی کے رہنما کو سزائے موت

مجاہد جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما ہیں جو دو ہزار ایک سے دو ہزار چھ کے درمیان وزیر بھی رہے تھے
،تصویر کا کیپشنمجاہد جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما ہیں جو دو ہزار ایک سے دو ہزار چھ کے درمیان وزیر بھی رہے تھے

بنگلہ دیش میں جنگي جرائم کی عدالت نے جماعت اسلامی کے ایک سرکردہ رہنما کو سنہ انیس سو اکہتر کی جنگ کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہونے پر موت کی سزا سنائي ہے۔

علی احسن محمد مجاہد کا شمار بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان پر تشدد اور قتل عام کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی عسکری تنظيم کے قائد تھے جو جنگ آزادی کی حمایت کرنے والے رہنماؤں اور دانشوروں کے قتل میں ملوث تھی۔

علی احسن مجاہد جماعتِ اسلامی کے دوسرے رہنما ہیں جنہیں رواں ہفتے میں سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے قبل پیر کو جنگی جرائم کی عدالت نے جماعت کے بزرگ روحانی رہنما نوے سالہ غلام اعظم کو نوے برس قید کی سزا سنائي تھی۔

منگل کے روز اس سزا کے خلاف ہزاروں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے جس میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ڈھاکہ کی ایک عدالت میں تین ججوں پر مشتمل ایک بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا اور بھری ہوئي عدالت میں جسٹس عبیدالحسن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کہ مجاہد کو ’گردن سے لٹکا کر پھانسی دی جائے‘۔

سنہ اکہتر کی آزادی کی جنگ کے دوران علی مجاہد طلباء کی ایک جماعت کے لیڈر تھے اور وہ متحدہ پاکستان کے حق میں تھے۔

دیگر جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی طرح آزادی کے فوراً بعد مجاہد بھی روپوش ہوگئے تھے۔ لیکن سنہ انیس سو ستتر میں جنرل ضیاء الرحمان کے آنے کے بعد وہ دوبارہ منظر عام پر آئے۔

دو ہزار ایک میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اقتدار میں آئی تو وہ پانچ برس تک کے لیے سماج میں فلاحی امور کے وزیر رہے۔

مجاہد ایک بہترین خطیب ہیں اور اچھی تنظیمی صلاحیتوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ لیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے حامی البدر گروپ کے لیڈر تھے جو تحریک آزادی کے حامیوں کے قتل میں ملوث تھی۔

بنگلہ دیش کی جنگی جرائم سے متعلق عدالت کا یہ چھٹا فیصلہ ہے جو اس نے جماعتِ اسلامی کے موجودہ اور سابقہ رہنماؤں کے خلاف دیا ہے۔

گرفتار ہونے والے تمام رہنما جنگی جرائم کے الزامات سے انکار کرتے ہیں جبکہ بنگلہ دیش کی حزب مخالف حکومت پر سیاسی انتقام لینے کا الزام عائد کرتی ہے۔

اس سے پہلے رواں برس فروری میں بھی بنگلہ دیش کی جنگی جرائم سے متعلق عدالت نے جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کے خلاف سزا سنائی تھی جس کے خلاف جماعتِ اسلامی کے ہزاروں کارکنوں نے مظاہرے کیے تھے۔