جماعت اسلامی کے سابق سربراہ کو 90 سال کی سزا

غلام اعظم نے سنہ 1969 سے لیکر سنہ 2000 تک جماعتِ اسلامی کی قیادت کی تھی
،تصویر کا کیپشنغلام اعظم نے سنہ 1969 سے لیکر سنہ 2000 تک جماعتِ اسلامی کی قیادت کی تھی

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کی عدالت نے ملک کی بڑی اسلام پسند سیاسی جماعت، جماعتِ اسلامی کے سابق سربراہ غلام اعظم کو سنہ 1971 میں جنگ کے دوران انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب پاتے ہوئے 90 برس قید کی سزا سنائی ہے۔

یہ الزمات سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کے پاکستان سے جنگِ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق ہیں۔

بنگلہ دیش میں پیر کو جماعتِ اسلامی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان عدالت کے فیصلے سے پہلے جھڑپیں ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ غلام اعظم نے سنہ 1969 سے لیکر سنہ 2000 تک جماعتِ اسلامی کی قیادت کی تھی۔

بنگلہ دیش کی جنگی جرائم سے متعلق عدالت کا یہ پانچواں فیصلہ ہے جو اس نے جماعتِ اسلامی کے موجودہ اور سابقہ رہنماؤں کے خلاف دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 90 سالہ محمد اعظم پر انسانیت کے خلاف جنگی جرائم ثابت ہوئے ہیں۔

عدالت کے مطابق غلام محمد کو انسانیت کے خلاف 60 سے زائد الزامات کا سامنا ہے جن میں ملیشیا گروہ قائم کرنے کا بھی الزام ہے۔

ان گروہوں نے سنہ 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف مظالم ڈھائے تھے۔

محمد اعظم جنگی جرائم سے متعلق الزامات سے انکار کرتے ہیں اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ جماعتِ اسلامی کے کئی رہنماوں اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سابق وزیر سمیت بارہ افراد پر مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔

گرفتار ہونے والے تمام رہنما جنگی جرائم کے الزامات سے انکار کرتے ہیں جبکہ بنگلہ دیش کی حزب مخالف حکومت پر سیاسی انتقام لینے کا الزام عائد کرتی ہے۔

اس سے پہلے رواں برس فروری میں بھی بنگلہ دیش کی جنگی جرائم سے متعلق عدالت نے جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کے خلاف سزا سنائی تھی جس کے خلاف جماعتِ اسلامی کے ہزاروں کارکنوں نے مظاہرے کیے تھے۔

بنگلہ دیشی حکومت نے یہ خصوصی ٹربیونل 2010 میں بنایا تھا جس کا مقصد ان ملزمان پر مقدمہ چلانا تھا جنہوں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر اس وقت کے مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننے کی مخالفت کی تھی۔

بنگلہ یش کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ '1971 میں جنگ کے دوران تیس لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ بعض محققین کے مطابق اس جنگ میں تین سے پانچ لاکھ کے درمیان لوگ ہلاک ہوئے تھے۔