ایڈورڈ سنوڈن کو وینزویلا، نکاراگوا کی پیشکش

سنوڈن نے امریکہ کے خفیہ نگرانی کے پروگرام کے راز افشاں کیے تھے
،تصویر کا کیپشنسنوڈن نے امریکہ کے خفیہ نگرانی کے پروگرام کے راز افشاں کیے تھے

لاطینی امریکہ کے دو ممالک نکاراگوا اور وینزویلا کے صدور نے امریکہ کو مطلوب سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن کو سیاسی پناہ دینے کی پیشکش کی ہے۔

وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو نے کہا ہے کہ وہ امریکی نگرانی کے پروگرام کے راز افشاء کرنے والے جاسوس کو پناہ دیں گے جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ روسی دارالحکومت ماسکو کے ہوائی اڈے پر ٹرانزٹ ایریا میں موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’بولیواریئن ریپبلک آف وینزویلا کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے نوجوان امریکی شہری ایڈورڈ سنوڈن کو ہمدردانہ بنیادوں پر پناہ دینے کی پیشکش کرتا ہوں تاکہ وہ شمالی امریکی استعماری ظلم سے دور بولیوار اور چاویز کے ملک میں رہ سکیں۔‘

دریں اثناء خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نکاراگوا کے صدر ڈینيئل اورٹیگا نے کہا ہے کہ ’اگر حالات اجازت دیں گے تو ان کا ملک بھی ایڈوارڈ سنوڈن کو سیاسی پناہ فراہم کرنے میں خوشی محسوس کرے گا۔‘

ڈینیئل اورٹیگا نے کہا کہ ماسکو میں واقع ، سفارت خانے میں اُنہیں، ایڈورڈ اسنوڈن کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواست موصول ہوئی ہے۔

مدورو نے کہا ہے کہ انھوں نے اسنوڈن کو ہمدردانہ بنیادوں پر سیاسی پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے
،تصویر کا کیپشنمدورو نے کہا ہے کہ انھوں نے اسنوڈن کو ہمدردانہ بنیادوں پر سیاسی پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے

یاد رہے کہ اسی کی دہائی میں صدر اورٹیگا اپنے پہلے صدارتی دور میں امریکہ کے سخت ترین مخالفوں میں سے تھے۔

ماسکو اور نکاراگوا کے دارالحکومت ماناگوا کے درمیان ، براہ راست کوئی بھی پرواز نہیں جاتی اسی لیے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ اب تک غیر واضح ہے کہ اس درخواست پر کیسے عمل درآمد ہوگا۔

وکی لیکس کے مطابق ایڈورڈ سنوڈن نے مزید چھ ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔

وکی لیکس نے یہ بھی کہا کہ ’امریکی مداخلت کی کوشش‘ کے پیش نظر وہ ان ممالک کا نام نہیں بتائي گی۔

اس سلسلے میں اب تک وہ اکیس ممالک میں اپنی درخواست بھجوا چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر نے ان کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

یاد رہے کہ سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ اسنوڈن نے حال ہی میں امریکہ میں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ اور فون کالوں کی نگرانی کے پروگرام پرزم کے بارے میں راز افشاء کیے تھے جس کے بعد سے غداری کے مقدمے میں وہ امریکہ کو مطلوب ہیں۔