آسٹریلیا: کیون رڈ نے وزیرِاعظم کا حلف اٹھا لیا

آسٹریلیا میں لیبر پارٹی کے سابق رہنما کیون رڈ نے ملک کے نئے وزیرِ اعظم کا حلف اٹھا لیا ہے۔
کیون رڈ نے ایک دن پہلے پارٹی کی قیادت کے لیے ہونے والے انتخاب میں سابق وزیراعظم جولیا گیلارڈ کو شکست دی تھی۔
آسٹریلیا کے نئے وزیرِ اعظم نے اپنی کامیابی کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں جولیا گیلارڈ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے برے حالات کے باوجود کافی کامیابی حاصل کی۔
اس شکست کے بعد فوراً جولیا گیلارڈ نے وزارتِ عظمی کے عہدے سے استعفی دیتے ہوئے سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔
خیال رہے کہ آسٹریلیا میں آئندہ ستمبر میں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور مختلف جائزوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انتخابات میں لیبر پارٹی کو شکست ہونے والی ہے۔
آسٹریلین ووٹرز میں جولیا گيلارڈ کے مقابلے کیون رڈ زیادہ مقبول ہیں اور بعض حلقوں کا خيال ہے کہ کیون رڈ کی قیادت میں پارٹی انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔
سنہ 2010 میں پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے جولیا گیلارڈ کے لیے یہ تیسرا ٹیسٹ تھا۔ اس سے پہلے انھوں نے سنہ 2010 میں اسی طرح کے پارٹی قیادت کے انتخاب میں کیون رڈ کو شکست دی تھی۔
سڈنی میں بی بی سی کے نامہ نگار نک برائن کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برس سے کیون رڈ کے حامیوں نے جولیا گيلارڈ کے خلاف مہم چلا رکھی تھی اس لیے ان انتخابات میں کیون رڈ سے بدلہ لینے کی پوری توقع تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں ہوئے ایک پول جائزے سے پتہ چلا تھا کہ اگر پارٹی جولیا گيلارڈ کی قیادت میں انتخاب لڑتی ہے تو کابینہ کے تین اہم وزراء اپنی سیٹ ہار سکتے ہیں لیکن اگر کیون رڈ کی قیادت میں پارٹی انتخاب لڑے تو وہ ہار سے بچ سکتے ہیں۔







