آسٹریلیا: وزیراعظم جولیاگیلارڈ کو شکست

آسٹریلیا میں لیبر پارٹی کے سابق رہنما کیون رڈ نے پارٹی کی قیادت کے لیے ہونے والے انتخاب میں وزیراعظم جولیا گیلارڈ کو شکست دے دی ہے۔
لیبر پارٹی میں قیادت کے لیے کافی دنوں سے کشمکش جاری تھی اور بالآخر اس کے لیے ووٹنگ کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم جولیا گیلارڈ کی طرف سے پارٹی کی قیادت کے لیے کرائے گئے انتخابات میں رکن پارلیمان اور سینیٹرز نے ووٹ ڈالے جس میں ان کے مدمقابل امیدوار کیون رڈ کو ستاون ووٹ ملے اور خود جولیا گیلارڈ کو پینتالیس ووٹ حاصل ہوئے۔
آسٹریلیا میں آئندہ ستمبر میں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور مختلف جائزوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انتخابات میں لیبر پارٹی کو شکست ہونے والی ہے۔
اس نوعیت سے لیبر پارٹی میں انتخابات سے پہلے قیادت کی یہ تبدیلی اہمیت کی حامل ہے۔
ووٹرز میں جولیا گيلارڈ کے مقابلے کیون رڈ زیادہ مقبول ہیں اور بعض حلقوں کا خيال ہے کہ کیون رڈ کی قیادت میں پارٹی انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔
دو ہزار دس میں پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے جولیا گیلارڈ کے لیے قیادت کا یہ تیسرا ٹیسٹ تھا۔ خود محترمہ گيلارڈ نے دو ہزار دس میں اسی طرح کے پارٹی قیادت کے انتخاب میں کیون رڈ کو شکست دی تھی۔

سڈنی میں بی بی سی کے نامہ نگار نک برائن کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برس سے کیون رڈ کے حامیوںنے وزيراعظم گيلارڈ کے خلاف مہم چلا رکھی تھی اس لیے ان انتخابات میں کیون رڈ سے بدلہ لینے کی پوری توقع تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غور طلب بات یہ ہے کہ ووٹنگ سے قبل جولیا گیلارڈ نے کہا تھا کہ اگر وہ اس میں ناکام ہوتی ہیں تو وہ سیاست ترک کر دیں گی۔
لیکن ووٹ سے عین قبل پارٹی کے ایک اہم رکن بل شورٹین نے کیون رڈ کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کے لیے بہتر مواقع کی امید ہے۔
نامہ نگاروں کے مطابق بہت سے لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ کیون رڈ پارٹی کو شکست سے بچا سکتے ہیں لیکن ہار کے مارجن کو ضرور کم کر سکتے ہیں۔
حال ہی میں ہوئے ایک پول جائزے سے پتہ چلا تھا کہ اگر پارٹی جولیا گيلارڈ کی قیادت میں انتخاب لڑتی ہے تو کابینہ کے تین اہم وزراء اپنی سیٹ ہار سکتے ہیں لیکن اگر کیون رڈ کی قیادت میں پارٹی انتخاب لڑے تو وہ ہار سے بچ سکتے ہیں۔
اس کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ اب لیبر پارٹی کے سربراہ کیون رڈ ہیں نہ کہ جولیا گیلارڈ۔
امکان ہے کہ اس شکست کے بعد محترمہ گيلارڈ گورنر سے ملاقات کر کے اپنا استعفیٰ پیش کریں گی جس کے بعد مسٹر رڈ وزارتِ عظمی کا عہدہ سنبھالیں گے۔
کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم بننے کے بعد کیون رڈ کابینہ میں بھی رد و بدل کریں گے۔







