استنبول: جھڑپیں شہر بھر میں پھیل گئیں

استنبول میں مظاہرین اور ترک پولیس میں اُس وقت جھڑپیں ہوئی ہیں جب بلوہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپیں استعمال کیں۔
ابتدا میں مظاہرین گیزی پارک سے بھاگ گئے لیکن بعد میں انھوں نے قریبی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور گلیوں میں آگ روشن کر دی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ 18 روز قبل پارک پر مظاہرین کے قبضے کے بعد سے ہونے والی بدترین شورش ہے۔
پولیس نے شہر کے دوسرے علاقوں سے تقسیم چوک پہنچنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے باسفورس پل بند کر دیا ہے۔ گیزی پارک تقسیم چوک کے اندر واقع ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق اتوار کی صبح تک چوک کے اردگرد جھڑپیں جاری تھیں۔ چوک میں بلڈوزر مظاہرین کی طرف سے کھڑی کی ہوئی رکاوٹیں ہٹا رہے تھے۔
ادھر دارالحکومت انقرہ میں بھی ہزاروں لوگ مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
مزدوروں کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ وہ پیر کو ملگ گیر ہڑتال کرے گی، جب کہ ایک اور مزدور تنظیم بھی ہڑتال کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔
طبی حکام کے مطابق 31 مئی کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک پانچ ہزار افراد زخمی اور چار مارے جا چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیرِاعظم رجب طیب اردوغان اتوار کی شام کو استنبول میں ایک جلوس نکالیں گے۔
یہ ہنگامے اس وقت شروع ہوئے تھے جب استنبول میں عوامی گیزی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکوں اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آیا۔ اس کے بعد حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ بڑھ کر پورے ملک میں پھیل گیا۔
اتوار کو پولیس نے جب گیزی پارک میں جمع مظاہرین کے خلاف کارروائی شروع کی تو اسے پارک خالی کروانے میں صرف آدھا گھنٹا لگا۔ بی بی سی کے جیمز رینالڈز پارک میں موجود تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ گیس ماسک پہنے ہوئے اور بلوہ ڈھالیں اٹھائے پولیس افسران نے سست روی سے پیش رفت کی۔
پولیس نے گیزی پارک میں مظاہرین کے خیمے اکھاڑ دیے، اور انھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپوں کا استعمال کیا۔
پولیس کی کارروائی سے چند گھنٹے پہلے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے مظاہرین کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ علاقے سے نکل جائیں۔
اس کارروائی سے پہلے ترک وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے انقرہ میں اپنی جماعت ’اے کے‘ ہزاروں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’اگر تقسیم سکوائر خالی نہیں کیا جاتا تو ہماری سکیورٹی فورسز جانتی ہیں کہ اسے کیسے خالی کرانا ہے۔‘
’وہاں (گیزی پارک) میں رکنے کا اب کوئی جواز نہیں بنتا ہے کیونکہ معاملہ اب عدالت میں جا چکا ہے۔ ہمیں کوئی دھمکا نہیں سکتا، ہم خدا کے سوا کسی سے کوئی ہدایت یا حکم نہیں لیتے۔‘
ترک وزیراعظم کے جلسے کے بعد مظاہروں میں شامل ایک گروپ نے تقسیم چوک میں احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے پہلے جمعے کو حکومت کا کہنا تھا کہ وہ مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے بعد اور اس بارے میں عدالت کا فیصلہ آنے تک غازی پارک کی تعمیر روکنے پر رضا مند ہو گئی ہے۔
’تقسیم سالیڈیریٹی گروپ‘ استنبول کے غازی پارک کی تعمیر و تزئینِ نو کے منصوبے کا مخالف ہے اور تقسیم سکوائر میں جمع مظاہرین کے مطابق وہ اس وقت تک غازی پارک سے نہیں جائیں گے جب تک حکومت اس متنازع منصوبے کو واپس لینے کا اعلان نہیں کرتی۔
مظاہرین نے وزیراعظم رجب طیب اردگان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ سکیولر ترکی میں شریعت نافذ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
رجب طیب ارگان کی حکومت سنہ 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔
استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار کہتے ہیں کہ وزیرِاعظم نے وہ جگہ خالی کروانے کی جنگ جیت لی ہے جس پر دو ہفتے پہلے مظاہرین نے قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ ملک کے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی بڑی جنگ کون جیتے گا۔







