مسجد جہاں ہم جنس پرستوں کا بھی استقبال

برطانیہ میں مسلمانوں کے ایک گروپ ’انكلوسیو مسوك انیشیٹو‘ آئی ایم آئي نے مسجدوں کے ایک ایسے سلسلے کی شروعات کی ہے جہاں ہر طرح کے لوگوں کا استقبال کیا جائے گا۔

بی بی سی کی ایشیئن نیٹ ورک کی نمائندہ راحیلہ بانو بتاتی ہیں کہ اس گروپ کا قیام گزشتہ سال نومبر میں ہوا تھا۔

یہ لوگ مسجد کے دروازے کو ہر کسی کے لیے کھولنے کے حق میں ہیں، مثلا ہم جنس پرست مسلمان، خواتین اور معذور تمام لوگ۔

اس ادارہ کے برطانوی کنوینر تمثلہ توقير نے انہیں بتایا ’ہم مسلمانوں کو ایک متبادل جگہ فراہم کرانا چاہتے ہیں جہاں وہ اپنی نماز ادا کر سکتے ہیں، ایک دوسرے سے مل سکیں۔ ہم کسی کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کریں گے۔ وہ چاہے سنّی ہوں یا پھر شیعہ، عام ہوں یا ہم جنس پرست ہوں۔‘

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس تحریک کو تنازعات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ برطانیہ میں تقریباً بیس لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔ یہ کمیونٹی بہت متنوع ہے لیکن بعض خواتین کو یہ تحریک اسلام کے لیے ایک چیلنج محسوس ہو رہی ہے۔

آئی ایم آئی کا کہنا ہے کہ خواتین کو نماز ادا کرنے کی اجازت دینے کے علاوہ انہیں امامت کرنے اور مردوں کے ساتھ برابری سے نماز ادا کرنے کا موقع دے گی۔ اس بات پر بھی کئی مسلمانوں میں ناراضگی پیدا ہو سکتی ہے۔

امام عدنان راشد لندن میں واقع اسلامی تھنک ٹینک ’دا ہٹن انسٹی ٹیوٹ! سے وابستہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ مذہب سے متعلق قوانین پہلے سے ہی طے ہیں۔

راشد کہتے ہیں’اسلام کا عقیدہ بالکل واضح ہے۔ مسلمان صدیوں سے چلے آ رہے اور وہ تبدیلی کو نہیں مانیں گے۔ قرآن بدلنے والا نہیں ہے، مذہبی اقدار نہیں بدلیں گی۔ مسلمانوں کی سوچ اور ان کی طرز زندگی نہیں بدلے گی۔ اس لیے اس مسجد کی کیا ضرورت ہے، میں نہیں جانتا۔‘

کئی مساجد میں عورتوں کو نماز جمعہ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وہاں خواتین کے لیے الگ سے کمرے نہیں ہیں یا پھر پردے کا معقول نظام نہیں ہے۔

بی بی سی نے کئی مسلم تنظیموں سے رابطہ کیا۔ برطانیہ میں اسلامی تنظیم کے طور پر معروف دو سب سے بڑے گروپ ’مسلم کونسل آف برطانیہ‘ (ایم سی بی) اور ’دا مسوك اینڈ امام نیشنل ایڈوائزری بورڈ‘ (ایم اے این بی) نے اس مسئلے پر رائے دینے سے انکار کر دیا۔

آئی ایم آئي کا کہنا ہے کہ وہ اس کے ذریعہ متبادل فراہم کرنا چاہتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنآئی ایم آئي کا کہنا ہے کہ وہ اس کے ذریعہ متبادل فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

شمالی انگلینڈ میں واقع لنكاشائر کونسل آف مسوك تقریباً 60 مساجد کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس نے بھی اس معاملے پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔

اس نئی تحریک کے بارے میں مسلمانوں میں ملا جلا ردعمل نظر آرہا ہے۔

لنكاشائر کے علاقے بلیک برن میں واقع ویہلي رینج میں بنی ایک نئی مسجد کے باہر موجود مسلمانوں میں کئی عورتوں نے اس تحریک سے اختلاف کا اظہار کیا۔

20 سے 25 سال کی عمر کے بے روزگار نوجوان محمد شاہد نے کہا ’میرے خیال سے مردوں اور عورتوں کا ایک ساتھ مسجد میں جانا مناسب نہیں ہے۔ مردوں کی توجہ اس سے متاثر ہوگی۔ کچھ مرد عورتوں کے تئیں اچھا رویہ نہیں رکھتے، ایسے میں عورتوں کو گھر پر ہی نماز ادا کرنا چاہیے۔‘

ان کے دوست شہزاد خان کہتے ہیں ’میرے خیال سے ہم جنس پرستوں کو مسجد میں داخلہ نہیں دینا چاہیے۔ وہ مسلمان نہیں ہوتے، ایسے میں وہ نماز کس طرح پڑھ سکتے ہیں؟‘

تیس سال کے گریجویٹ علی نور کہتے ہیں ’میرے خیال سے یہ خیال اچھا ہے۔ اس سے معذوروں کو برابری کے مواقع ملیں گے۔ یہ بہت پہلے ہونا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہو پایا ہے۔‘

جب حال ہی میں طے خانے میں واقع کمرے میں ایک لڑکی کی امامت میں نماز ادا کی گئي تو اس نماز میں شامل کوئی بھی شخص اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتا کیونکہ انھیں برادری سے نکالے جانے کا خوف ہے۔

ایک نوجوان مسلمان مرد نے کہا ’ہمیں مساجد کے اندر کے مردانہ ماحول سے شکایت ہے۔ اگر عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت ملتی بھی ہے تو انہیں کوئی نمائندگی نہیں ملتی۔ انہیں مردوں کے ماتحت ہی رہنا ہوتا ہے، اسے نہ تو میں صحیح سمجھتا ہوں اور نہ ہی اسلامی۔‘

کیا ان کی یہ تحریک کامیاب ہو گی اور عام لوگوں کو جوڑ سکے گی؟ اس سوال کے جواب میں ایک نوجوان نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان کی تنظیم لوگوں کی رہنمائی کریں گی۔

اس نوجوان کے مطابق اگر لوگوں کو یقین ہوگا کہ متبادل موجود ہے تو وہ آگے آئیں گے۔ اگر وہ ان کی تنظیم آئی ایم آئي میں نہیں آتے ہیں تو بھی دوسری مساجد پر دباؤ پڑے گا۔

ایک مسلمان طالب علم نے کہا ’یہاں کوئی ایسا نہیں ہے جو اصول بنا کر کہے کہ آپ کو ایسے ہی جینا ہوگا۔ یہ کافی کچھ اس پر منحصر ہے کہ آپ حقائق کو کس طرح سمجھتے ہیں اور اس سے کس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو کسی امام اور کمیونٹی رہنما کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اگرچہ اس تحریک سے ابھی کم لوگ ہی منسلک ہیں لیکن یہ برطانیہ میں اس عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہے جس کی شاخ سرینگر اور کوالالمپور میں بھی موجود ہے۔

اس کے علاوہ ان کے ساتھیوں کا نیٹ ورک امریکہ، کینیڈا، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور سویڈن میں بھی موجود ہے۔ان لوگوں کا مقصد بین الاقوامی مساجد کا نیٹ ورک بنانا ہے۔