بنگلہ دیش:’مہاسین‘ سے کم از کم 12 ہلاک

بنگلہ دیش میں حکام کے مطابق ملک میں آنے والے سمندری طوفان مہاسین میں اب تک کم سے کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ادھر مہاسین طوفان بنگلہ دیش کے جنوبی ساحل سے گزرنا شروع ہوگيا ہے جس سے بچنے کے لیے دس لاکھ افراد نے عارضي پناہ گاہوں میں پناہ لے رکھی ہے۔
جمعرات کی صبح سب سے پہلے پتوکھلی ضلع میں طوفان نے تقریباً سو کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلتے ہوئے چٹاگانگ اور کاکس بازار کے ساحلوں کی جانب رخ کیا۔
انسانی امور سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ طوفان مہاسین سے برما، بنگلہ دیش اور بھارت کے شمال مشرقی علاقوں میں 8.2 ملین افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔
بھارت کی کئی ریاستوں میں طوفان سے بچنے کے لیے وارننگ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ موسم کی سختیوں سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
بنگہ دیش میں حکام کے مطابق کم سے کم 956,672 افراد کو بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں سے نکال کر 3200 سے زائد محفوظ پناہ گاہوں میں پہنچایا گیا۔
بنگلہ دیش کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ طوفان نے بنگلہ دیش پہنچنے سے پہلے تقریباً 175 کلو میٹر کا سفر کیا، جس کے بعد وہ ساحل سے آ ٹکرایا۔
محکمے کے ایک سینیئر افسر شمس الدین احمد کا کہنا ہے کہ جس حساب سے پہلے تخمینہ لگایا گيا تھا اس مناسبت اس طوفان سے نقصان کم ہونے کی توقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ طوفان کا زور کم پڑ گيا ہے ’اپنے سفر کے آخری مرحلے میں جب وہ ساحل تک پہنچا تو اس وقت اس میں وہ طاقت باقی نہیں رہ گئي تھی۔‘
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس طوفان سے برما کے بعض علاقے بھی خطرے کی زد میں آسکتے ہیں اس لیے وہاں بھی انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
برما میں فسادات سے متاثّرہ دسیوں ہزار روہنگیا مسلمان برما کے انھی ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں جہاں طوفان کے آنے کا خطرہ ہے۔
یہ مسلمان فرقہ وارانہ فسادات کے سبب بے گھر ہو کر ان علاقوں میں آ کر بسے ہیں اور اب خوف کے سبب دوبارہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جانا چاہتے۔
ہیلا مونگ نامی ایک شخص کا کہنا تھا کہ ’میں ہر چیز کھو چکا ہوں اس لیے اب اللہ سے یہی دعا کرتا ہوں کہ یہاں پر رہنے والے تمام لوگوں کی موت اسی آنے والے طوفان میں ہو جائے۔ میں کہیں بھی نہیں جانا چاہتا۔ میں یہیں رہنا چاہتا ہوں اور اگر موت آنی ہے تو یہیں آئے۔‘
ادھر اطلاعات ہیں کہ انخلا کے عمل کے دوران برما میں ایک کشتی کے ڈوبنے سے 50 سے زیادہ روہنگيا مسلم ہلاک ہوگئے۔
برما میں 2008 میں آنے والے طوفان ’نرگس‘ میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔







