گوانتانامو میں قید نصف قیدی بھوک پڑتال پر

امریکی جیل گوانتاناموبے میں حکام کے مطابق جیل میں قید ایک سو چھیاسٹھ قیدیوں میں سے چوراسی نے بھوک ہڑتال کردی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قیدی غیر معینہ مدت سے قید میں رکھنے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بغیر کسی الزام کے قید ہیں۔
84 میں سے سولہ قیدیوں کو زبردستی خوراک کھلائی گئی ہے اور پانچ ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
بھول ہڑتال رواں سال چھ فروری کو شروع ہوئی تھی اور حالیہ ہفتوں اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ بدھ کو 52 قیدی بھوک ہڑتال پر تھے اور جمعہ کو یہ تعداد 63 تک پہنچ گئی تھی۔
جیل گوانتانامو بے میں بھول پڑتال کرنا عام ہے لیکن حالیہ بھوک پڑتال کا سلسلہ اب تک کا سب سے بڑا ہے۔
گوانتانامو کے حکام نے اس بات کی تردید کی کہ ہڑتال بعض قیدیوں کے کمروں میں تلاشی کے دوران قرآن کی بے حرمتی کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔
سولہ اپریل کو بعض قیدیوں کو مشترکہ کمروں سے نکال کر دوسرے کمروں میں منتقل کرنے کے مسئلے پر قیدیوں اور محافظوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا تھا جب قیدیوں نے نگرانی کے کیمرے اور کھڑکیوں کو ڈھانپ دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ بعض قیدیوں نے جیل میں ملنے والی چیزوں سے ہتھیار بنا رکھے تھے، اور یہ کہ محافظوں کی طرف سے اس کے جواب میں ان پر چار غیرمہلک گولیاں چلائی گئیں۔
قیدیوں کی نمائندگی کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس کی کشیدگی کی وجہ یہ ہے کہ امریکی فوج یہاں موجود قیدیوں کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک سو قیدیوں کو آزاد کیے جانے کے لیے منظوری دی جا چکی ہے لیکن وہ کانگریس کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندیوں اور ان کے اپنے ملکوں میں برے سلوک کے خدشے کے پیشِ نظر اب بھی وہاں قید ہیں۔







