بوسٹن دھماکے:’مشتبہ شخص کی تصویر ملی ہے‘

امریکی شہر بوسٹن میں ایک میراتھن دوڑ کے دوران ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات کرنے والے اہلکاروں کے مطابق انہیں سکیورٹی کیمروں سے حاصل ہونے والی ویڈیو فوٹیج سے ایک مشتبہ شخص کی تصویر ملی ہے۔
بوسٹن سٹی کونسل کے صدر سٹیفن مرفی کو تحقیقات سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایک آدمی کو دھماکے کی جگہ پر ایک بیگ رکھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق سٹیفن مرفی نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے ممکنہ طور پر مشتبہ شخص کو جائے وقوعہ کے قریب ایک سٹور کے سکیورٹی کیمرے سے حاصل ہونے والے ویڈیو فوٹیج میں دیکھ لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاہم یہ معلوم نہیں کہ تحقیقات کرنے والوں نے اس مشتبہ شخص کی شناخت کی ہے یا نہیں لیکن ’وہ جلد ہی کسی کو گرفتار کرنے والے ہیں۔‘
اس سے پہلے ایف بی آئی نے اس خبروں کی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ پیر کو بوسٹن شہر میں ہونے والے دو دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
اس سے پہلے بدھ کو تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ میراتھن دوڑ میں استعمال ہونے والے بم ممکنہ طور پر پریشر ککر میں نصب کیے گئے تھے۔
ہوم لینڈ سکیورٹی اور وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کے نشر کردہ بلیٹن میں ایک سیاہ رنگ کا پشتی بیگ، ایک دھماکا خیز آلہ اور دھات کے ٹکڑے دکھائے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مرنے والوں میں ایک آٹھ سالہ بچہ، ایک 29 سالہ عورت اور ایک چینی طالب علم شامل تھے۔
صدر اوباما جمعرات کو بوسٹن میں ایک ماتمی تقریب میں شرکت کریں گے۔

ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹ رچرڈ ڈے لاریئرز نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا تھا کہ جائے وقوعہ سے نائلون کے ٹکڑے، بال بیئرنگ اور کیلیں ملی ہیں جنھیں ’ممکنہ طور پر ایک پریشر ککر سے بنائے گئے آلے میں رکھا گیا تھا‘۔
انھوں نے مزید کہا ’ابھی تفتیش ابتدائی مراحل میں ہے۔ فی الحال کسی نے ذمے داری قبول نہیں کی اور ملزمان کی شناخت اور مقاصد کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘
امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے تفتیش سے وابستہ ایک شخص کے حوالے سے بتایا ہے کہ بموں کو 1.6 گیلن کے پریشر ککروں میں رکھا گیا تھا، ایک میں دھات کے ٹکڑے تھے اور دوسرے میں بال بیئرنگ اور کیلیں تھیں۔
اس شخص نے بتایا کہ بموں کو ایک سیاہ بیگ میں بند کر کے زمین پر رکھ دیا گیا تھا۔
زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بموں میں دھات کے ٹکڑے موجود تھے۔ کئی زخمیوں کے اعضا کاٹنا پڑے۔
صدر اوباما جمعرات کی صبح بوسٹن میں ایک بین المذہبی ماتمی تقریب میں شرکت کریں گے۔







