کابل:’بم جنسی اعضا کےقریب چھپا رکھا تھا‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 8 دسمبر 2012 ,‭ 13:42 GMT 18:42 PST

اسد اللہ خالد کا شمار افغان صدر حامد کرزئی کے قریبی ساتھیوں میں کیا جاتا ہے

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغان خفیہ ادارے کے سربراہ اسد اللہ خالد پر قاتلانہ حملہ کرنے والے خودکش حملہ آور نے بم اپنے جنسی اعضا کے قریب چھپا رکھا تھا۔

ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ اس خودکش حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی تھی۔

افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے سربراہ جمعرات کو اس وقت زخمی ہوگئے تھے جب خود کو طالبان کا امن ایلچی ظاہر کرنے والے بمبار نے کابل میں ان سے ملاقات کے دوران دھماکہ کر دیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس نے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ’خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد زیرجامے میں اعضائے مخصوصہ کے گرد باندھا ہوا تھا‘۔ ممکنہ طور پر تلاشی کے دوران اس کے نہ پکڑنے جانے کی وجہ بھی یہی تھی کیونکہ عموماً افغان اہلکار تلاشی کے دوران اس حصے کی تلاشی نہیں لیتے۔

اسد اللہ خالد اب بگرام میں امریکی فوج کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور افغانستان کے سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان کی حالت تسلی بخش ہے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی ہسپتال میں ان کی عیادت کی ہے۔ افغان صدر نے سنیچر کو یہ بھی کہا کہ افغان حکام کو یقین ہے کہ حملہ آور پاکستانی شہر کوئٹہ سے افغانستان آیا تھا مگر انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد سے کہیں گے کہ وہ اس بارے میں وضاحت کرے۔

اس سے قبل طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ اسد اللہ خالد حملے کا ہدف تھے جس میں کئی جاسوس مارے گئے اور کچھ زخمی ہوئے۔

تاہم صدر کرزئی نے طالبان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں زیادہ بڑے اور پیشہ ور ہاتھ ملوث ہیں۔ صدر کرزئی کے اس بیان پر فوری طور پر پاکستان کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ لباس میں دھماکہ خیز مواد چھپا کر افغان رہنماؤں یا اہلکاروں پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

اس سے قبل ستمبر 2011 میں افغان امن مشن کے سربراہ برہان الدین ربانی کو ان کے گھر میں جس خودکش حملہ آور نے ہلاک کیا اس کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ اس نے بم اپنی پگڑی میں چھپایا ہوا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>