
اسد اللہ خالد کا شمار افغان صدر حامد کرزئی کے قریبی ساتھیوں میں کیا جاتا ہے
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغان خفیہ ادارے کے سربراہ اسد اللہ خالد پر قاتلانہ حملہ کرنے والے خودکش حملہ آور نے بم اپنے جنسی اعضا کے قریب چھپا رکھا تھا۔
ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ اس خودکش حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی تھی۔
افغانستان کے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کے سربراہ جمعرات کو اس وقت زخمی ہوگئے تھے جب خود کو طالبان کا امن ایلچی ظاہر کرنے والے بمبار نے کابل میں ان سے ملاقات کے دوران دھماکہ کر دیا تھا۔
اے ایف پی کے مطابق افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس نے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ ’خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد زیرجامے میں اعضائے مخصوصہ کے گرد باندھا ہوا تھا‘۔ ممکنہ طور پر تلاشی کے دوران اس کے نہ پکڑنے جانے کی وجہ بھی یہی تھی کیونکہ عموماً افغان اہلکار تلاشی کے دوران اس حصے کی تلاشی نہیں لیتے۔
اسد اللہ خالد اب بگرام میں امریکی فوج کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور افغانستان کے سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان کی حالت تسلی بخش ہے۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی ہسپتال میں ان کی عیادت کی ہے۔ افغان صدر نے سنیچر کو یہ بھی کہا کہ افغان حکام کو یقین ہے کہ حملہ آور پاکستانی شہر کوئٹہ سے افغانستان آیا تھا مگر انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد سے کہیں گے کہ وہ اس بارے میں وضاحت کرے۔
اس سے قبل طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ اسد اللہ خالد حملے کا ہدف تھے جس میں کئی جاسوس مارے گئے اور کچھ زخمی ہوئے۔
تاہم صدر کرزئی نے طالبان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں زیادہ بڑے اور پیشہ ور ہاتھ ملوث ہیں۔ صدر کرزئی کے اس بیان پر فوری طور پر پاکستان کا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
خیال رہے کہ لباس میں دھماکہ خیز مواد چھپا کر افغان رہنماؤں یا اہلکاروں پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اس سے قبل ستمبر 2011 میں افغان امن مشن کے سربراہ برہان الدین ربانی کو ان کے گھر میں جس خودکش حملہ آور نے ہلاک کیا اس کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ اس نے بم اپنی پگڑی میں چھپایا ہوا تھا۔






























