افغانستان: جنگجو سرداروں کے رحم و کرم پر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 10:19 GMT 15:19 PST
افغانستان میں ایک سردار جنگجو

سردار جنگجوؤں کے پاس ہتھیار ہوتے ہیں اور علاقے میں ان کا ہی قانون چلتا ہے۔

افغانستان میں بعض علاقے ایسے ہیں جہاں حکومت یا طالبان کا غلبہ نہیں ہے بلکہ لوگ جنگجو سرداروں کے رحم وکرم پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں اگر لوگ کوئی غلطی کرتے ہیں تو ان کے ساتھ تشدد ہوتا ہے یا پھر انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔

شمالی مشرقی افغانستان کے دور دراز کے دیہی صوبے تخار میں لگتا ہے کہ وقت انیسوی صدی میں ٹھہر گیا ہے، یہاں اوبڑ کھابڑ سڑکیں ہیں، مٹی کے بنے ہوئے گھر ہیں اور گا‎ؤں میں کوئی قانون نہیں اور نہ ہی یہاں حکومت کی نمائندگی کا کوئی سراغ ملتا ہے۔

ان علاقوں میں مسلح جنگجوؤں اور ان کی بندوقوں کا راج ہے، اور انھی کی بات قانون کا درجہ رکھتی ہے۔

تخار میں ایک چھبیس سالہ شخص نجب اللہ ( نام تبدیل کیا گیا ہے) نے بتایا، ’مقامی مسلح کمانڈروں نے میرے تین بھائیوں کو باغیوں کے خلاف لڑنے کے لیے مجبور کیا اور وہ جنگ میں مارے گئے۔‘

نجب اللہ بہت دھیمی آواز میں بولتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ کوئی ان کی باتیں سن نہ لے۔ اس لیے ان سے بات کرنے کے لیے میں ان کے ساتھ ان کے دوست کی دوکان کے پیچھے چلا گیا۔

نجب اللہ بتاتے ہیں، ’اب وہ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ لڑوں۔ میں نے ایسا کرنے سے منع کردیا کیونکہ مجھے اپنے بوڑھے والدین اور یتیم بھتیجوں کی دیکھ بھال کرنی ہے۔‘

’جب سے میں نے ان کی پیش کش سے انکار کیا ہے تب سے وہ مجھے جان سے مارنے اور ہماری زمین پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔‘

نجب اللہ کی سمجھ میں اب نہیں آرہا کہ وہ کیا کریں۔ اپنے علاقے کو چھوڑ کر کسی اور علاقے میں منتقل ہوجانا ان کے لیے ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ غریب کسان ہیں اور ان کے کندھوں پر پورے خاندان کی ذمے داری ہے۔

ایک جنگجو

مسلحہ جنگجو اپنے علاقے کے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر رکھتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ان کی کوئی بھی مدد نہیں کرسکتا۔ سرکاری اہلکار اور پولیس یا تو مسلح جنگجوؤں سے ڈرتے ہیں یا پھر ان کے لیے کام کرتے ہیں۔

روس اور طالبان دونوں نے اس علاقے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی پوری کوشش کی لیکن اب ’جنگجوؤں‘ کا اس علاقے میں قبضہ ہے جس کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔

بعض علاقوں میں وہ مقامی تاجروں سے بھتا بھی لیتے ہیں۔ ان میں سے بعض حکومت کے اہلکار بن گئے ہیں اور بعض طالبان مخالف عسکری تنظیم ارباکی چلاتے ہیں۔ ارباکی حکومت اور عالمی فورسز کی مدد سے چلتی ہے۔

بہت سے مقامی لوگ اس تنظیم سے بے حد ڈرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمانڈر ان سے زبردستی پیسہ اور کھانا وصول کرتے ہیں، زمین پر قبضہ کرتے ہیں اور لوگوں پر حملہ کرتے ہیں اور کبھی کبھی قتل بھی کردیتے ہیں۔

تخار مرکزی ایشیا کے سب سے بڑے دریا آمودریا کے جنوبی ساحل پر واقع ہے۔ وہاں رہنے والے لوگوں کو پانی کا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے لیکن وہاں رہنے والے بہت سے کسان ایسے ہیں جن کو کھیتی باڑی کے لیے کافی پانی میسر نہیں ہے۔

خوجائے غور نامی ایک ضلعے میں آبپاشی کی نہریں مکمل طور پر سوکھ گئی ہیں اور وہاں کھیتی کرنا مشکل ہورہا ہے۔ یہاں رہنے والے کئی سو خاندان ایسے ہیں جو پانی کی تلاش میں اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

اس پریشانی کا کسی نے کوئی حل نہیں بتایا۔

ایک مقامی کسان محمد شریف نے بتایا، ’بعض طاقتور اور مسلح افراد نے ہماری نہروں کا رخ اپنے پن بجلی کے پروجیکٹس کے طرف موڑ لیا ہے۔‘

محمد شریف بتاتے ہیں ایسا کرنے والوں میں ایک آغا گل قطاغنی ہیں جو تخار کے دارلحکومت تالقان کے میئر ہیں اور سابق مجاہد کمانڈر ہیں۔

جب میں نے ان سے ملاقات کرکے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے سبھی الزامات سے انکار کردیا:

’مجھے اس شخص کا نام بتاؤ میں اسے عدالت میں چیلنج کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میرا کوئی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ نہیں ہے۔‘

تاہم دوسرے کسان محمد شریف کے موقف کو صحیح قرار دیتے ہیں۔

لیکن تخار کے صوبائی کونسل کے سربراہ کہتے ہیں کہ قطاغنی اور دیگر افراد نہروں کے پانی کا رخ موڑ رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے، ’ہم ان کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ حکومت کمزور ہے اور اصل میں یہ کمانڈرز یہاں حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے کابل میں نمائندے ہیتھر بار کا کہنا ہے افغانستان کے متعدد دیہی علاقوں میں تخار جیسے حالات ہیں۔

ان کا کہنا ہے، ’حکومت اور بیرونی طاقتوں نے ان کمانڈروں کو دیہی علاقوں کا کنٹرول دے کر اور طالبان کے خلاف جنگجو بنا کر انہیں طاقت بخشی ہے۔‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت ان ساری پریشانیوں کو سنی ان سنی کررہی ہے۔

فرح صوبے کی سینٹر بلقیس روشن کا کہنا ہے، ’میں قتل اور عصمت دری کے کئی معاملات کے بارے میں جانتی ہیں، لیکن جنہوں نے یہ جرم کیے ہیں وہ آزاد گھوم رہے ہیں کیونکہ یا تو وہ خود جنگجو کمانڈرز ہیں یا ان کے جاننے والے ہیں۔‘

حکومتی اہلکار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مسائل ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں کارروائی کررہے ہیں۔

کابل میں افغانستان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کا کہنا ہے، ’مقامی پولیس اور ارباکی فورس کے ساتھ ہمارے بعض مسائل ہیں لیکن جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کو سزا دی جائے گی۔‘

لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عام لوگوں کو دارلحکومت کابل میں بھی انصاف ملنا مشکل ہے۔

کابل میں مجھے ایک خاتون نے بتایا، ’ایک مقامی کمانڈر نے میرے والد کا قتل کردیا اور ہماری زمین بھی لے لی۔‘

ان کا مزید کہنا ہے، ’جب اس کمانڈر نے میری تیرہ چودہ سال کی بیٹی سے شادی کی خواہش مندی کا اظہار کیا تو میں گاؤں چھوڑ کر کابل چلی آئی۔‘

اب یہ خاتون نہ تو اپنے گاؤں جاسکتی ہیں اور نہ اپنی زمین واپس پا سکتی ہیں۔

امریکہ اور نیٹو آئندہ دو برسوں میں افغانستان سے اپنی افواج بلا لیں گی اور اس کے بعد مقامی فورس ملک کی سیکورٹی کا نظام سنبھالیں گی اور طالبان سے لڑیں گی۔

اس کا مطلب مقامی کمانڈروں کے ہاتھ میں مزید طاقت آ جائے گی اور زیادہ مقامی عوام ان کے رحم و کرم پر رہیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>