
افیون کی زیادہ قیمت کی وجہ سے پوست کی کاشت کسانوں کے لیے فائدہ مند ہے
اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت میں تقریباً تینتیس فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اقوام متحدہ کی تنظیم برائے جرائم و منشیات یعنی ’یو این او ڈی سی‘ کے مطابق یہ کمی اس بات کے باوجود ہوئی ہے کہ پوست کے لیے استعمال کی جانے والی اراضی میں اضافہ ہوا ہے۔
کلِک افیون کی قیمت کیونکہ بڑھ رہی ہے اس لیے افغانستان میں بیشتر کاشتکاروں نے یہ فصل لگائی تھی۔
تاہم اس کی کاشت کی کمی کی وجہ غالباً خراب موسم اور بیماریاں ہیں۔
یو این او ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق افغان حکومت کی اس کے خلاف کوششوں کے باوجود گلِ لالا کے کھیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی انسداد منشیات کی کوششوں کے نتیجے میں سنہ دو ہزار بارہ میں دس ہزار ہیکٹر ایسی اراضی ختم کر دی گئی تھی۔
یو این او ڈی سی کا کہنا ہے کہ اس وقت افیون کے لیے پوست کی کاشت زیادہ تر افغانستان کے جنوب اور مغرب کے علاقوں میں ہو رہی ہے جہاں ’غیر یقینی صورتحال اور جرائم کا وجود ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق ملک میں افیون سے پاک علاقوں کی تعداد میں تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ ایسے علاقوں کی تعداد اب بھی سترہ ہی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پوست کی کاشت اور سلامتی کی خراب صورتحال میں تعلق کئی سالوں سے واضح نظر آرہا ہے۔
یو این او ڈی سی کے ڈائریکٹر یوری فیڈوٹاف کا کہنا ہے کہ ’رہن سہن کے حالات میں بہتری، قانون کی بالادستی اور سلامتی، ہلمند میں ان سب پر ہم کو توجہ دینی ہوگی اگر ہم غریب کسانوں کو خود مختار بنانے میں ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں‘۔
کچھ اطلاعات کے مطابق پچھلے سال افیون کی قیمتوں اور مانگ میں اضافے کے بعد افغانستان میں پوست کی کاشت دوگنی ہو گئی تھی۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کوئنٹِن سمرویل کہتے ہیں کہ ملک کے جنوب اور مغربی علاقوں میں افغان حکومت کے انسداد دہشت گردی کے پروگرام انتہائی غیر مقبول ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس صنعت سے پاکستان اور افعانستان میں جرائم پیشہ گروہوں لاکھوں ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔
دنیا میں پیدا کی جانے والی افیون کا نوے فیصد حصّہ افغانستان سے آتا ہے۔






























