
شدت پسند افغانستان میں سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں
افغانستان میں شدت پسندوں کے تین حملوں میں کم سے کم دس شہریوں سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پہلا واقعہ اُُس وقت پیش آیا جب جنوبی صوبے ہلمند میں ایک منی بس سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی جس میں عورتوں اور بچوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق یہ بس مسافروں کو شادی کی تقریب میں لے کر جا رہی تھی۔
صوبے لغمان میں ہوئے ایک دوسرے حملے میں پانچ افغان فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ جنوبی صوبے قندھار میں ہونے والے بم حملے میں تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔
شدت پسند افغانستان میں سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔
سنہ دو ہزار ایک میں اقتدار کے خاتمے کے بعد سے شدت پسند افغانستان کے جنوبی صوبوں قندھار اور ہلمند میں کافی سرگرم ہیں اور غیر ملکی افواج پر حملے کرتے رہتے ہیں۔
گذشتہ چند برسوں میں لغمان میں حملے نسبتاً کم ہوئے ہیں۔ تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہاں کے شہری علاقوں میں طالبان کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ستمبر میں نیٹو فورسز نے لغمان میں طالبان کے خلاف ایک کارروائی کے دوران آٹھ عورتوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس واقعے کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔
افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز دو ہزار چودہ میں واپس چلی جائیں گی جس کے بعد ملکی سکیورٹی کی تمام ذمہ داری افغان فورسز کی ہوگی۔






























