
افغانستان کے شمالی صوبے فاریاب میں نمازِ عید کے اجتماع پر خودکش حملے میں کم از کم اکتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ میمنہ نامی شہر میں مسجد کے باہر ہوا ہے اور اس میں پچاس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین اور حکام کے مطابق خودکش حملہ آور نے عید کی نماز ختم ہونے کے بعد باہر آنے والے نمازیوں کو نشانہ بنایا۔
حکام کے مطابق مرنے والوں میں سے بھی نصف سے زائد پولیس اہلکار تھے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ حملہ آور کس طرح چار سکیورٹی چوکیوں کو چکمہ دے کر مسجد تک پہنچنے میں کامیاب ہوا تاہم نائب صوبائی گورنر عبدالستار باریز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملہ آور پولیس کی وردی میں ملبوس تھا۔
فاریاب کے صوبائی گورنر کے ترجمان احمد جواد بیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’دھماکے میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں‘۔
اطلاعات کے مطابق صوبائی گورنر اور پولیس کے صوبائی سربراہ بھی نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے اسی مسجد میں آئے تھے تاہم وہ محفوظ رہے۔
دھماکے کے بعد علاقے کو سکیورٹی اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
افغانستان کے شمالی حصے میں جنوب اور مشرق کے برعکس بہت کم خودکش حملے ہوئے ہیں اور فاریاب کو ایک نسبتاً پرامن صوبہ تصور کیا جاتا ہے۔
افغان صدر حامد کرزئی نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے طالبان اور افغان حکومت کے مخالفین سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک کو تباہ کرنے اور اپنے ہی شہریوں کو مارنے کا سلسلہ بند کریں اور غیرملکی مقاصد کی تکمیل کے لیے آلۂ کار نہ بنیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اس ملک میں آئیں، یہاں باعزت طریقے سے آئین کے مطابق رہیں۔ آپ کو جو عہدہ چاہیے تو اس کے لیے لوگ ہیں، الیکشن ہیں۔ آئیں اور مہم چلائیں اور ووٹ حاصل کریں‘۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بھی اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ’پاکستان شمالی افغانستان کے میمنہ شہر کی عید گاہ میں ہوئے خودکش حملے کی مذمت کرتا ہے‘۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’دونوں ممالک (افغانستان اور پاکستان) کو مشترکہ طور پر شدت پسندی کے خطرے کا سامنا ہے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ مل کر شدت پسندی کا خاتمہ کرنے کے عہد پر قائم ہے‘۔






























