
بی بی سی نامہ نگار کے مطابق اس علاقے میں امریکی فوجی تعینات ہیں
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی شہر خوست میں ایک خودکش بم حملے میں نیٹو کے تین فوجیوں سمیت تیرہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
نیٹو کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک افغان مترجم بھی شامل ہے جبکہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملے میں متعدد پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔
نیٹو نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شہریت کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔
حکام کے مطابق خودکش حملہ آور نے فوجیوں کے اپنی گاڑی سے باہر نکلنے کا انتظار کیا اور جیسے ہی وہ باہر نکلے اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ساٹھ کے قریب افراد زخمی ہو گئے ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
کابل میں بی بی سی نامہ نگار کوئنٹن سمروِل کا کہنا ہے کہ حملہ بین الاقوامی اتحادی افوا ج کے قافلے پر اس وقت کیا گیا جب یہ خوست شہر کے ایک مصروف علاقے سے گزر رہا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں امریکی فوجی تعینات ہیں تاہم ابھی تک ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی شہریت کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آ سکی ہے۔
افغانستان کے دیگر علاقوں کی طرح خوست میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس علاقے میں شدت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک زیادہ سرگرم ہے۔
اتوار کو افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں مہم کے لیے بہت داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہے لیکن اس میں امریکیوں کا قتل شامل نہیں ہے۔
امریکی ٹی وی سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے فوجیوں پر افغان فوجیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید ناراض ہیں۔
امریکی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دو ہزار ایک سے جاری فوجی مہم کے دوران افغانستان میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد دو ہزار ہوگئی ہے۔
یہ تعداد اتوار کو افغان سکیورٹی فورسز کے ایک باغی اہلکار کے ہاتھوں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے نتیجے میں پوری ہوئی۔
رواں سال اب تک افغان سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں پچاس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں اسی وجہ سے نیٹو افواج نے افغان فوجیوں کے ساتھ مشترکہ گشت کرنا کم کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکہ دو ہزار چودہ کے آخر تک افغانستان سے اپنی بیشتر لڑاکا فوج واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
گذشتہ چند ماہ میں غیر ملکی فوجیوں کی افغان باغی اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغان حکومت اور اس کی افواج آئندہ دو سال میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں گی۔
آئی کیژوئلٹیز نامی ایک آزاد تنظیم کے مطابق افغانستان میں اب تک اس کے علاوہ ایک ہزار ایک سو نوے اتحادی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔
بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق چالیس اعشاریہ دو فیصد ہلاکتیں خود ساختہ بموں کی وجہ سے ہوئی ہیں جب کہ تیس اعشاریہ چھ فیصد دشمن کی فائرنگ کا نتیجہ تھیں۔
سنہ دو ہزار ایک افغانستان پر کیے جانے والے امریکی حملے کا مقصد گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو ہونے والے واقعات کے بعد القاعدہ اور طالبان کو نشانہ بنانا تھا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں میں تقریباً تین ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں۔






























