
کابل میں اس سے پہلے بھی غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے نزدیک ایک خاتون خودکش حملہ آور نے غیر ملکی شہریوں کو لے جانے والی ایک منی بس کو نشانہ بنایا ہے۔
پولیس کے مطابق اس خودکش حملے میں کم از کم بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ادھر نیٹو کا کہنا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں پر مقامی فوجیوں کے حملوں کے بعد افغان اور اتحادی افواج کے مشترکہ گشت کا سلسلہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ منی بس میں سوار غیرملکی ایئرپورٹ کی طرف جا رہے تھے کہ ان کی بس کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق منی بس کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام کرنے والے غیر ملکی سٹاف کو لے کر جا رہی تھی۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور مقامی میڈیا کے مطابق افغان عسکریت پسند گروپ حزبِ اسلامی نے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
رائٹرز نے حزبِ اسلامی کے ایک ترجمان زبیر صدیقی کے حوالے سے بتایا ہے کہ’اسلام مخالف فلم کے ردعمل میں ایک خودکش حملہ آور خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور ایک اورگاڑی میں سوار تھی اور بظاہر اس نے منی بس کو ہدف بنایا۔
کابل پولیس کے سربراہ محمد ایوب سولنگی کا کہنا ہے کہ لازمی طور پر خودکش حملہ آور منی بس کا تعاقب کر رہی تھی۔ انہوں نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ہلاکتیں زیادہ ہوئیں ہیں‘۔ پولیس سربراہ نے ہلاک ہونے والے افراد کی شہریت کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔
خودکش حملے کے بعد علاقے میں بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔






























