کابل: خودکش حملے میں تیرہ امریکی ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق ایک خودکش حملے میں تیرہ امریکیوں سمیت سترہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
کابل کے دارلامان کے علاقے میں ہونے والے خودکش حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں پانچ امریکی فوجی، آٹھ امریکی سول اہلکار،تین افغان شہری اور ایک افغان پولیس افسر شامل ہیں۔
<link type="page"><caption> کابل: خودکش حملے کی تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2011/10/111029_attack_pics.shtml" platform="highweb"/></link>
امریکہ محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ کابل کے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے غیر ملکی امریکی تھے تاہم کینیڈا کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں اس کا ایک فوجی بھی شامل ہے۔
خودکش حملہ آور سرخ رنگ کی ایک ٹیوٹا کرولا گاڑی میں سوار تھا اور مقامی وقت کے مطابق گیارہ بج کر بیس منٹ پر اس نے گاڑی کو بس سے ٹکرا دیا۔
اس آرمر بس میں امریکی سوار تھے۔نیٹو کو اس علاقے سے اپنے زخمی فوجیوں کو ہپستال پہنچانے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹر استعمال کرنا پڑے۔
طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کابل میں ایک خود کش حملے میں متعدد نیٹو فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔
طالبان نے موبائل فون کے ذریعے ایک پیغام میں کہا کہ خود کش حملہ آور کا نام عبدالرحمان تھا اور اس کی گاڑی میں سات سو کلو گرام دھماکہ خیر مواد بھرا ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کابل میں ہونے والے حملے کے ایک عینی شاہد نور محمد نے بتایا کہ اس نے حملےکا نشانہ بننے والی بس میں نیٹو فوجیوں کو پھنسے ہوئے دیکھا۔ نور محمد نے کہا کہ ایک فوجی کا نچلا دھڑ جھلس گیا تھا۔
ایک دوسرے عینی شاہد غلام ساقی کا کہنا ہے کہ’بم دھماکہ بہت شدید تھا۔‘
ایک اور حملے میں افغان فوج کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے دو آسٹریلیا کے تین فوجیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
نیٹو کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حملہ آور کو بعد میں ہلاک کر دیا گیا۔
سنیچر کو پیش آنے والے ایک تیسرے میں واقعے میں ایک نوجوان خودکش حملے آور لڑکی نے افغان انٹیلیجنس کے دفتر پر حملے کیا ہے۔
صوبہ کنٹر میں پیش آنے والے اس واقعے میں خودکش حملہ آور لڑکی ہلاک اور افغان انٹیلی جنس کے متعدد اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔
طالبان نے صوبہ کنڑ میں خفیہ ایجنسی کے دفتر کے باہر ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
افغانستان میں ایک لاکھ تیس ہزار غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود گزشتہ چند ماہ سے شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔







