
ہلاک ہونے والوں میں بچوں سمیت عام شہری بھی شامل ہیں
افغانستان میں حکام کے مطابق ملک کے جنوب مغربی اور شمالی علاقے میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم اڑتالیس افراد ہلاک اور ایک سو تیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ حملے اور دھماکے نیمروز اور قندوز نامی صوبوں میں ہوئے ہیں اور مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔
نمروز میں سینیئر پولیس حکام کے مطابق صوبائی دارالحکومت زرانج میں منگل کو کم سے کم چار مختلف جگہوں پر خودکش حملے ہوئے۔
حکام کے مطابق خود کش حملہ آوروں نے اس وقت مارکیٹ کو نشانہ بنایا جب لوگ روزہ افطار کرنے کی تیاری کر رہے تھے اور ان حملوں میں چھتیس افراد مارے گئے ہیں جن میں سے غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق گیارہ پولیس اہلکار ہیں۔
صوبے کے نائب پولیس سربراہ مجیب اللہ لطیفی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چند حملہ آوروں کو پولیس نے ہلاک بھی کیا۔ اطلاعات کے مطابق دو خود کش حملہ آوروں نے اس وقت اپنے آپ کو اڑا دیا جب پولیس نے ان پر فائرنگ کی۔
افغان انٹیلیجنس حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ زرانج میں متعدد خود کش حملے آور داخل ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق ان میں سے چند حملہ آوروں کو پیر کو جبکہ دیگر کو منگل کی صبح گرفتار کیا گیا۔
ایک اہلکار کے مطابق مارکیٹ میں ہونے والے حملے سے پہلے مشتبہ افراد کی تلاش کا کام جاری تھا۔
ایک عینی شاید محمد زلمے نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ خریداری کر رہے تھے جب انہوں نے دھماکہ سنا۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد وہ زمین پر گرے اور بے ہوش ہو گئے۔ ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ ہر طرف خون ہی خون بکھرا پڑا تھا۔
ان خودکش حملوں کے بعد شمالی افغانستان میں واقع صوبے قندوز میں بھی افطار سے قبل ہونے والے ایک بم دھماکے میں بارہ افراد ہلاک اور تیس سے زائد زخمی ہوئے۔
قندوز کے گورنر نے بی بی سی کو بتایا کہ دشتِ آچی میں ہونے والے دھماکے میں بم ایک موٹر سائیکل پر نصب تھا جسے ایک پرہجوم چوراہے پر کھڑا گیا تھا۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خوانچہ فروش بھی شامل ہیں۔
کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا ہے کہ ایرانی سرحد کے قریب واقعہ صوبہ زرنج نسبتاً پر امن علاقہ ہے۔ نامہ نگار کے مطابق پولیس کو اس بات پر تشویش ہے کہ وہاں مزید حملے ہو سکتے ہیں۔






























