
دونوں ملکوں میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے واقعات کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے
افغانستان میں حکومت نے پاکستانی اخبارات کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔
افغان حکام کا موقف ہے کہ اخبارات طالبان جنگجوؤں کے مقاصد کو پورا کر رہے ہیں۔
افغان وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اخبارات’طالبان ترجمانوں کے پروپیگنڈے کا ذریعہ ہیں‘ اور مشرقی افغانستان میں پولیس کو حکم دیا ہے کہ تمام اخبارات کو ضبط کر لیا جائے۔
ابھی تک پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کے اقدام پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
خیال رہے کہ افغان حکام کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے موقع پر اٹھایا گیا ہے کہ جب دونوں ملکوں میں سرحد پار حملوں کے تنازع پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
افغان وزارتِ داخلہ نے حکم دیا ہے کہ سکیورٹی فورسز خصوصی طور پر طورخم کے ذریعے اخبارات کی ملک آمد کو روکیں۔
وزارت دفاع نے اس اقدام کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ’اخبارات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں اور ملک کے مشرقی صوبوں میں عوام کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے حملے افغانستان میں ایک حساس معاملہ بن چکا ہے۔
جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغان وزیر خارجہ زلمے رسول نےکہا تھا کہ سرحد پار سے ہونے والے حملوں میں ان کے درجنوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی بمباری کے نتیجے میں چار ہزار کے قریب افراد علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔
گزشتہ ماہ پاکستان کے صدر زرداری اور افغان صدر نے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے جائزے کے حوالے سے علاقے میں ایک مشترکہ فوجی مشن بھیجنے پر اتفاق کیا تھا۔
پاکستان کا موقف ہے کہ پاکستان طالبان افغان علاقے میں پناہ حاصل کرتے ہیں اور پھر وہاں سے سرحد پار کر کے سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان شدت پسندوں کو بمباری میں نشانہ بناتے ہیں جو سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔






























