
اسد اللہ خالد افغان صدر حامد کرزئی کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں
افغانستان میں حکام کے مطابق افغان انٹیلیجنس سروس کے سربراہ پر حملہ کرنے والا خودکش بمبار مذاکرات کا بہانہ بنا کر طالبان کے نمائندے کے روپ میں آیا تھا۔
انٹیلیجنس سروس کے نائب ترجمان شفیق اللہ طاہری نے بی بی سی کو بتایا کہ خود کش حملہ آور طالبان کے نمائندے کے روپ میں امن مذاکرات کا بہانہ بنا کر آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق تین بجے کیا گیا۔
افغانستان میں حکام کے مطابق افغان انٹیلیجنس سروس کے سربراہ جمعرات کو خودکش حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔
وزارتِ داخلہ کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں خفیہ سروس کے سربراہ اسد اللہ خالد کے جسم کا نچلا حصہ متاثر ہوا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بم حملہ دارالحکومت کابل کے علاقے تمنائی میں ہوا۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اسد اللہ خالد حملے کا حدف تھے جس میں کئی جاسوس مارے گئے اور کچھ زخمی ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسد اللہ خان کے کئی مہمان خانوں میں سے ایک میں انہیں بم کا نشانہ بنایا گیا۔
اسد اللہ خالد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ قاتلانہ حملے سے بچنے کے لیے کابل میں باقاعدگی سے اپنی رہائش گاہیں تبدیل کرتے رہتے تھے۔
اسداللہ خالد کی حالت کے بارے میں متازع اطلاعات ہیں۔
افغان انٹیلیجنس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اسد اللہ خالد ’محفوظ‘ ہیں تاہم ان کی حالت کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی۔
ایک سفارت کار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسداللہ شدید زخمی ہوگئے ہیں۔
بی بی سی کو بعد میں بتایا گیا کہ سرجری کے بعد اسداللہ خالد کی حالت سنبھل گئی ہے۔
اسد اللہ خالد نے چند ماہ پہلے ہی انٹیلی جنس کے سربراہ کے طور پر اپنی ذمے داریاں سنبھالی تھیں۔
وہ اس سے پہلے بھی ایک قاتلانہ حملے میں بچ چکے ہیں۔ ان پر یہ حملہ سال دو ہزار سات میں اس وقت ہوا تھا جب وہ صوبہ قندھار کے گورنر تھے۔
حکام کے مطابق یہ ستمبر 2011 میں افغان امن مشن کے سربراہ برہان الدین ربانی پر کئے گئے حملے کی طرز پر تھا۔
برہان الدین ربانی کو ان کے گھر میں خودکش حملہ اور نے ہلاک کیا اور حملہ اور کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ انھوں نے بم اپنی پگڑی میں چھپایا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسداللہ خالد کا الزامات عائد کئے تھے کہ غزنی اور قندہار میں گورنر کی حیثیت سے کام کرنے کے دوران انھوں نے لوگوں کو ٹارچر کیا اور انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزیاں کی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ستمبر میں اسد اللہ خالد پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ انھوں نے اپریل 2007 میں قندہار میں اقوام متحدہ کے پانچ اہل کاروں کو بم دھماکے میں ہلاک کیا۔






























